خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 304
خطابات ناصر جلد دوم ۳۰۴ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۷ء رستے میں روک نہیں بننا اس کی روحانی اصلاح کے رستے میں روک نہیں بنا اور یہ کوشش کرنی ہے اور یہ جذ بہ دل میں رکھنا ہے کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء :٢) محمدصلی اللہ علیہ وسلم تو مرتے تھے اس بات کے لئے کہ یہ لوگ مسلمان ہو جا ئیں اور ہم خوش اس بات پر ہوں کہ وہ لوگ قرآن پر عمل نہیں کر رہے۔یہ تو پھر ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیسے منسوب ہوں گے تو جو پیار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں بنی نوع انسان کے لئے خدا نے پیدا کیا تھا اس کے ہم بھی وارث ہیں کیونکہ وہ پیار صرف ایک شخص کے لئے نہیں تھا وہ تو آگے بانٹنے کے لئے تھا وہ تو اسی رنگ میں بانٹنے کے لئے تھا جس طرح خدا کی نعمتیں بٹ بھی جاتی ہیں اور کمی بھی نہیں ہوتی۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کیلئے اپنے اس پیار کو دنیا میں بانٹا اتنی سخاوت کی کہ اس جیسا کوئی سخی ہمیں نظر نہیں آتا لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی دولت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ہمیں بھی ملا جو کچھ ہم سب کو مجھے اور آپ کو ، کوئی اس بات کو بھولے نہ اور یہ پکا عزم کریں کہ آج کی دکھی دنیا جو ہے وہ اس جماعت کی محتاج ہے جو ان کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھے۔جوان پر ظلم نہ کرنے والی ہو جو ان کے حقوق ان کو دینے اور دلانے والی ہو۔جو محبت اور پیار کے ساتھ خدا تعالیٰ کا نور ان تک پہنچانے والی ہو۔جو خدا تک پہنچانے والی راہیں ان پر کھولنے والی ہو۔اس جماعت کی ضرورت ہے، وہ جماعت بن جائیں پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے پہلے سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے آپ وارث بنتے ہیں اور بنی نوع انسان آپ سے فائدہ اٹھاتا ہے اور بنی نوع انسان کی خوشحالی کے سامان پیدا کرنے کی آپ کو اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے۔قرآن کریم نے جو حقوق بلا امتیاز مذہب و ملت، بلا امتیاز نیک و بد، بلا امتیاز کسی امتیاز کے بغیر قائم کئے ہیں ان پر سختی سے کاربند ہوں اور اس طرح پس ثابت کریں کہ واقعہ میں اور حقیقی معنی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے محسن اعظم تھے۔(حضور نے فرمایا نعرے لگا دو۔) اب ہم دعاؤں کے ساتھ اس جلسے کو ختم کریں گے اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں سے آئندہ سال کا جلسہ بھی ہمارے نصیب میں کرے اور اس سے زیادہ برکتوں کا حامل ہو وہ جلسہ۔اور زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہو وہ جلسہ اور زیادہ کثرت کے ساتھ یہاں آنے کی اپنے بھی اور اپنے دوست بھی توفیق پائیں۔اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں آپ پر بھی اور ان پر بھی جو