خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 306 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 306

خطابات ناصر جلد دوم ۳۰۶ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۷ء طرف ہمیں لے جائے اور اپنے پیار سے ہی ہمیں مالا مال کر دے اور تو پھر کسی چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور خدا کرے کہ ہماری نسلیں بھی اپنے مقام کو پہچانیں اور ہمیں خدا توفیق دے کہ ہم اپنے بچوں کی صحیح تربیت کر سکیں اور ہم میں، ہمارے بچوں میں قرآن کریم کا پیار پیدا ہو اور قرآن کریم کی عظمت اور شان سے وہ واقفیت حاصل کریں اور قرآن کریم کو پڑھنے کا شوق اور جذبہ ان کے دلوں میں پیدا ہو اور مختلف تحریکوں کے ماتحت قرآن کریم سکھانے کی جو کوشش کی جارہی ہے اس سے وہ فائدہ اٹھانے والے ہوں اور وہ دین کے وہ سپاہی بنیں ، لاٹھیوں اور بندوقوں کے ساتھ نہیں بلکہ خدا کے پیار کو لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کو لے کر وہ دنیا میں نکلیں اسلام کے سپاہی کی حیثیت سے اور دنیا کومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور احسان سے گھائل ہونے والے بنیں اور پھر ان کی نسلیں اور پھر ان کی نسلیں یہاں تک کہ اسلام کا غلبہ اپنے آخری عروج کو پہنچ جائے اور دنیا میں بسنے والے انسان سارے کے سارے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں اور چند گنتی کے چند بدقسمت باقی رہ جائیں جن کو توفیق نہ ملی ہو ان کی اپنی غفلتوں اور اپنے گناہوں کی وجہ سے اور خدا کرے کہ ہمارا ہر دن پہلے دن سے زیادہ برکتیں پانے والا ہو اور خدا کرے کہ ہماری ہر نسل پہلی نسل سے زیادہ شدت کے ساتھ غلبہ اسلام کی شاہراہ پر آگے بڑھنے والی ہو۔اور خدا کرے کہ ہمارے اموال میں وہ برکتیں قائم رہیں جن کی بشارتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند حضرت مہدی موعود کو جماعت کے متعلق دی گئی تھیں اور خدا کرے ہمیں وہ برکت نصیب رہے کہ جب جس جگہ ہمارا ہاتھ لگے وہ بھی بابرکت ہو جائے اور دنیا کے لئے برکت اور خیر کا موجب ہم بنیں اور خدا کی رضا میں ہم زندہ رہیں اور اس کی رضا میں ہی ہمارا دم نکلے۔(آواب دعا کر لیں ) (از آڈیو کیسٹ)