خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 272
خطابات ناصر جلد دوم ۲۷۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کر سکتا اس کا سارا علاج ، نہ ڈاکٹر فیس لیتا ہے نہ دوائی کی قیمت لیتا ہے نہ وہاں رہنے کا کوئی پیسہ لیتا ہے اگر وہ وہیں رہے پورا مفت علاج۔ایک وہ ہے جو اپنی رہائش کا انتظام کرتا ہے لیکن فیس اور دوائی کے پیسے نہیں دیتا، ایک وہ ہے جو دوائی میں تھوڑے سے پیسے دے دیتا ہے ڈاکٹر کی فیس نہیں دیتا اور ایک وہ امیر ہے جب اس قسم کے آپریشن ہو گئے تو مقبولیت بہت بڑھ گئی ، بڑھنی چاہئے تھی وہ مقبولیت جب بڑھی تو امیر آ گیا۔ڈاکٹر نے کہا، یعنی وہاں یہ واقعہ ہوا ہے کہ حکومت کا وزیر آیا تو وزیر تھا وہ پھلانگ کے سٹول لگا ہوا تھا مریضوں کا پھلانگا اور اس کے آفس میں آ گیا جہاں وہ دیکھ رہا تھا۔ہمارے ڈاکٹر نے کہا کیو (Queu) میں کھڑے ہو جاؤ دیکھوں گا ورنہ نہیں دیکھوں گا میرے لئے سارے برابر ہیں۔وزیر صاحب کو وہاں بھیج دیا وہاں جا کے کھڑے ہوں اپنی باری پہ آئیں اور پیسے دیئے انگلستان میں مثلاً دس ہزار روپیہ دے گا وہ انہوں نے کہا ہم تمہیں چار ہزار روپے دیتے ہیں آپ تو نہیں لینا ڈاکٹر نے غریب پر ہی خرچ کرنے ہیں یہ جو پیسے آئے ہیں ناں جو میں آپ کو بتا رہا ہوں یہ اس طرح آئے ہیں امیر سے خدا تعالیٰ نے چھین کر وہاں کے غریب کے لئے پیدا کر دیا وہ سامان کہ میں تمہارا علاج کرتا ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ بنایا ہے۔اس نعمت عظمیٰ کا۔اس کو میں کہتا ہوں بڑا چولہا جس نے یہ سامان پیدا کر دیئے ہمارا تو ایک چھوٹا سا ، تریپن لاکھ روپیہ دیا تھا اس میں اب بھی کئی لاکھ روپیہ یہاں اب بھی اس رقم میں سے بھی پڑا ہوا ہے۔اور کئی لاکھ یورپ میں اور دوسرے ملکوں میں پڑا ہوا ہے سارا خرچ نہیں ہوا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اتنی برکت دے دی اتنی برکت دی تبھی تو میں کہا کرتا ہوں تمہیں کہ ایک نعمت جو خدا کی ہے ساری عمر شکر میں گزار دیں ہم تب بھی شکر نہیں پورا ہوتا۔تو شکر کی ہم میں کہاں طاقت اس واسطے ہم تو یہ دعا کرتے ہیں کہ خدا یا جتنا ہم شکر کر سکتے ہیں ممکن طور پر اس کی ہمیں توفیق دے اور باقی ہمیں معاف کر دے۔تبھی کام چلتا ہے ورنہ تو مارے جائیں اگر خدا رحمن نہ ہو، اس میں نصرت جہاں میں ایک منصوبہ یہ بنایا گیا تھا اشاعت قرآن کا بھی اور بیس ہزار کی تعداد میں قرآن کریم ترجمہ انگلش جو ہے اس کے نسخے ان ممالک میں تقسیم کئے گئے اور ہوٹلوں میں، ہر کمرے میں رکھے گئے بہت سارے ہوٹلوں میں اور بعض دوست