خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 271 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 271

خطابات ناصر جلد دوم ۲۷۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء سے چار کروڑ چوالیس لاکھ اٹھتر ہزار تین سو اکیس روپے دے دیئے۔اور ہم نے جو چھوٹے چھوٹے کلینک تھے ان میں سے بہتوں کو بڑی بڑی ہسپتال کی بلڈنگز میں منتقل ، کنورٹ کر دیا، تعمیر کر دیں بلڈنگز سکول بنا دیئے۔تنخواہیں دیں، ہسپتالوں کی بھی ، استادوں کو بھی دیں سامان خریدا ہسپتالوں کا اور ان ملکوں کی خدمت خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے کرنے کی توفیق عطا کر دی۔ثواب میں تو آپ پورے شریک ہو گئے ہیں، تھوڑی سی رقم دے کے اور ان رحمتوں میں پورے طور پر جو مقامی رحمتیں ہیں وہ تو انہی کی ہیں وہ نعمتیں جو ان کو ملی ہیں اور اسکے نتیجے میں صرف ایک حصہ میں لیتا ہوں ، اس کے نتیجہ میں جو صرف ہسپتال والا حصہ ہے سترہ لاکھ باون ہزار تین سو چھپن مریضوں کا علاج کیا گیا اور اللہ کے فضل سے سوائے بعض استثناؤں کے پندرہ ہزار چار سو سرسٹھ آپریشن خدا کے فضل سے کامیاب طور پر کئے گئے اور ان میں سے بعض بڑے الجھے ہوئے کیسز تھے۔وہاں کے جو یورپ کے ڈاکٹر تھے وہ کہتے تھے کہ ہم اس مریض کو ہاتھ نہیں لگانے کے لئے تیار کیونکہ بہت بری حالت۔تب پہلے ہمارے ڈاکٹر کو ہمارے سر جن کو اللہ تعالیٰ نے جرات عطا کی اور اس کے دل میں اپنا تو کل پیدا کیا اور دعا کی اس کو توفیق دی اور اس نے کہا جس کو یہ ہاتھ لگانے کے لئے تیار نہیں میں ہاتھ لگانے کے لئے تیار ہوں۔ایک واقعہ یہ بھی ہوا کہ حکومت نے کہا ہم تمہیں ہاتھ لگانے نہیں دیں گے کیونکہ اتنے بڑے ماہر یورپ سے آئے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہاں ہاتھ لگا یا کسی نے اور یہ مر جائے گا تو ہم تمہیں اجازت نہیں دیں گے تو اس کے جو رشتہ دار عزیز تھے مریض کے انہوں نے شور مچا دیا انہوں نے کہا ہم غریب لوگ ہمیں ہمارے اس غریب بیمار کو حکومت اپنے خرچ پر یورپ علاج کے لئے بھیجنے کے لئے تیار نہیں اور یہاں ان سے علاج کروانے کے لئے ہمیں اجازت نہیں دیتی یہ کیا تماشہ بنایا ہوا ہے تم نے۔چنانچہ شور مچا کے مجبور کیا حکومت کو کہ وہ اجازت دیں کہ احمدی ڈاکٹر سرجن جو ہے وہ اس کا آپریشن کرے اور فرشتوں کو کہا جاؤ اور اس کو صحت دے دو۔وہ جس کو یعنی انہوں نے کہا تھا کہ صحت ہو ہی نہیں سکتی یہاں، علاج ہی نہیں ہو سکتا آپریشن ہی ناممکن ہے اس کو خدا تعالیٰ نے صحت دے دی۔اور صحت مند ہو کے وہ چلا گیا اور کم و بیش دولاکھ مریضوں کا پورے طور پر مفت علاج کیا گیا وہاں کئی قسمیں بن گئی ہیں ایک وہ مریض ہے جو ایک دھیلا بھی نہیں خرچ