خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 273
خطابات ناصر جلد دوم ۲۷۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء جو تنقید بھی کرتے رہتے ہیں۔اخباروں میں پڑھتے ہیں وہ کہتے کہ جی یہ دیکھیں احمد یوں نے وہاں یہ کر دیا ہر کمرے میں قرآن کریم انگریزی ترجمہ رکھ دیا ہمیں بھی رکھنا چاہئے۔ہم کب کہتے ہیں کہ نہیں رکھنا چاہئے ہمارے لئے تو دوہری خوشی ہے اگر ایک کی بجائے دو قرآن کریم کے ترجمے وہاں ہوں گے تو ہم تو خوش ہوں گے ہمارے لئے تو دکھ کا باعث نہیں ہے۔ہم ایک رکھتے ہیں تم دس رکھو۔پھر دنیا کو یہ بھی پتہ لگ جائے گا کہ ان کے مسائل کو کون سی تفسیر قرآنی حل کرتی ہے۔چند باتیں اس کی میں نے لے لی ہیں۔صد سالہ جو بلی یہ لمبی رپورٹ ہے میں مختصر کروں گا۔اس میں ایک تو یہ بات بڑی دلچسپ ہے اور خدا تعالیٰ کی بڑی حمد ہم کرتے ہیں کہ اپنے ملک میں جو دھتکارا گیا تھا اور اس حالت میں اسے بشارتیں دی گئی تھیں اس کی وہ بشارتیں اس وقت تک بڑھتی جارہی ہیں جو بشارت کا پورا ہونا ہے خدا تعالیٰ کی جو نعمتیں ہیں ان میں تو ہر روز اضافہ ہورہا ہے اس سے کوئی انکار نہیں ہے لیکن یہ پہلی دفعہ سامنے آیا کہ صد سالہ جوبلی میں چون ممالک نے حصہ لیا۔چون ملکوں نے اس کے وعدے لکھائے اور اس میں پیسے دیئے ہیں چون ملکوں نے اور اس کی جو ہم نے کہا تھا پھیلا یا تھا وعدہ سارا، اس کے وعدے ہو گئے تھے قریباً دس کروڑ سے اوپر تو اس کو پھیلا دیا تھا سال بہ سال پندرہ سالوں کے اوپر تو ہر سال ۱/۱۵ اپنے وعدے کا دو، ستی بھی کرتے ہیں ہم بھی تو ان کو ہم پیار سے سمجھا دیتے ہیں، بستیاں دور بھی ہو جاتی ہیں بعض کی مجبوری بھی ہو جاتی ہے مثلاً ایک نے پیسے رکھے ہوئے ہیں اس کام کے لئے چوری ہو گئے بہت کم ہوتے ہیں لیکن ہو جاتے ہیں ایسے واقعات۔اس سے غصے ہوں گے کہ تیرے گھر میں چوری کیوں ہوئی۔چوری تو ہوگئی پیسے تو وہ نہیں دے سکتا ٹھیک ہے جب ہوں گے پھر دینا۔دعائیں کریں گے اللہ تعالیٰ اس کو دے بہت پیسے تا کہ یہ خلش اس کے دل میں نہ رہے کہ میں نے اس سال کا وعدہ نہیں پورا کیا اور پیچھے ہٹ گیا۔میں نے اس وقت یہ تحریک کی تھی کہ جو بچے پڑھ رہے ہیں مثلاً ایک بچہ ہے وہ میڈیکل کی تعلیم لے رہا ہے ڈاکٹر اس نے بنا ہے دو سال کے بعد۔اب وعدہ لکھا دے اس امید پر کہ مجھے خدا دے گا۔امید سے وعدے لکھاؤ خدا برکت ڈالے گا تمہارے مال میں اب پہلے دو سال تو اس نے دینا ہی نہیں کیونکہ ابھی اس نے کمانا ہی نہیں شروع کیا۔اسی طرح اور بہت سارے ہیں جنہوں نے اس امید پر کہ ہم کمانے لگیں گے تو دیں گے تو جب کمائیں گے اسی وقت دیں گے ان چیزوں کو اگر