خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 228
خطابات ناصر جلد دوم ۲۲۸ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء ان کی زبان میں تاثیر پید کر دے اور ان کو عقل و فراست عطا کرے اور اسلام کا رعب ان کو عطا کرے اور اسلام کی روحانی طاقت ہر دوسری طاقت کو مغلوب کرنے والی ہو۔اور ہماری یہ دعا ہے کہ ہمارے جو غیر ملکی بھائی وفود کی شکل میں یا اپنے طور پر اس جلسہ کی برکات سے حصہ لینے کے لئے ایک لمبا سفر طے کر کے یہاں پہنچے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اس سفر کے ایک ایک قدم پر اتنی برکتیں نازل کرے کہ وہ اپنی جھولیوں میں سمیٹنا چاہیں مگر سمیٹ نہ سکیں تب خدا کے فرشتے ان کے پیچھے پیچھے برکتیں لے کر ان کے گھروں میں جائیں اور ان کا علاقہ بھی خدا کی برکتوں سے حصہ لینے والا ہو۔اور ہماری یہ دعا ہے کہ جو لوگ کسی وجہ سے اس جلسہ پر نہیں آ سکے لیکن ان کے دل یہاں آنے کے لئے تڑپتے تھے، وہ خاص برکتیں جو خدا آنے والوں کو دے ان میں ان کو بھی حصہ دار بنائے۔اور ہماری یہ دعا ہے کہ جن مریضوں کو ہم اپنے گھروں میں چھوڑ کر آئے تھے جب ہم واپس جائیں تو ان کو چنگا اور صحت مند پائیں۔اور ہماری یہ دعا ہے کہ جن پریشانیوں میں ہم نے اپنے مکانات کو چھوڑا تھا ہم واپس جائیں تو ہماری پریشانیاں دور ہو چکی ہوں یا اگر ہمارے لئے امتحان ہے تو جو پریشانیاں ہیں وہ ہمارے اندراستقامت دیکھیں اور ہمیں سرخرو کرنے کا باعث بنیں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث نہ بنیں۔اور ہماری یہ دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے بچوں کو ذہین رسا عطا کرے اور علم کے میدان میں ہما را جوان کسی سے پیچھے نہ رہے صرف یہی دعا نہیں کہ کسی سے پیچھے نہ رہے بلکہ ہر دوسرے آدمی سے آگے بڑھے جیسا کہ چھوٹے پیمانے پر اب بھی ہے۔انگلینڈ میں امریکہ میں ہمارا احمدی بچہ تعلیمی میدان میں ان ملک کے باشندوں میں آگے نکلتا ہے اور وہاں کے لوگ حیران ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کہ زبان غیر ہے ماحول غیر ہے بچپن کی تربیت اور ہے اور جن سکولوں میں پڑھتے ہیں ان کا طریق تعلیم اور ہے لیکن خدا تعالیٰ فضل کرتا ہے۔ہمارے بعض بچے امریکہ میں امریکنوں سے اور انگلستان میں انگریزوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔ہماری یہ دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں اس کروت سے ذہن عطا کرے کہ دنیا یہ مان لے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل خدا تعالی کی عف برکتیں جماعت احمدیہ پر نازل ہو رہی ہیں۔