خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 227
خطابات ناصر جلد دوم ۲۲۷ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء ماحول پیدا کرے۔ہمارے ملک میں لوگوں کے اندر ایک دوسرے سے ہمدردی اور خیر خواہی پیدا کرے اور ہمارے دلوں میں سارے ملک اور اس میں بسنے والوں کی خدمت کا جذبہ اور بھی زیادہ کر دے اور ساری دنیا کے انسان کو خدا تعالیٰ جھنجوڑ کر یا جہاد کے جذبہ کے ساتھ لیکن تباہ کئے بغیر ہوش میں لائے تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو پہچاننے لگیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے آشنا ہونے لگیں اور آپ کی طرف دوڑیں استغفار کرتے ہوئے اور وہ اپنی سستیوں اور غفلتوں کی مغفرت چاہتے ہوئے اور گناہوں کی بخشش مانگتے ہوئے خدا کے حضور جھکیں۔ہم یہ دعا بھی کرتے ہیں میں بھی اور سب حاضرین جلسہ بھی کہ خدا تعالیٰ نے جس طرح اس جلسہ گاہ کو احمدی جسموں کے ساتھ بھر دیا ہے اس سے زیادہ ہمارے گھروں کو اپنی برکتوں کے ساتھ معمور کر دے۔کہنے والے کہتے تھے کہ روکیں بڑی ہیں اور دوست جلسے میں بہت کم آئیں گے لیکن دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ روکیں تھیں یا نہیں ہر آدمی یہاں کثرت سے موجود ہیں خدا کرئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری دعاؤں ہی کے ہم وارث ہوں اور اللہ تعالیٰ کی ساری نعمتوں ہی سے ہم فائدہ اٹھانے والے ہوں خدا تعالیٰ ہماری مدد اور نصرت فرمائے تا کہ ہم بنی نوع انسان کی پیار کے ساتھ خدمت کر کے خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان کے دل جیتنے میں کامیاب ہو جائیں۔ہماری اس کوشش میں مدد کے لئے آسمان سے فرشتے نازل ہوں اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوں اور ہماری یہ دعا ہے کہ ہمارے سینے خدا کے نور سے بھر جائیں اور ہماری یہ دعا ہے کہ ہمارے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سمندر کی طرح موجزن ہو جائے اور ہماری یہ دعا ہے کہ ہمارے ذہنوں کو جلا حاصل ہو۔اور ہماری یہ دعا ہے کہ ہماری زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلوے کچھ اس طرح ظاہر ہوں کہ خدا کا منکر اپنے انکار پر قائم نہ رہ سکے اور اسے یہ ماننا پڑے کہ خدا جو اس جہان کا مالک ہے اور اپنے نیک بندوں سے پیار کرنے والا ہے وہ واقع میں ہے اور پیار کرتا ہے۔اور ہماری یہ دعا ہے کہ ہمارے بھائی جو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کر رہے ہیں اور اسلام کے جھنڈوں کو جگہ جگہ گاڑ رہے ہیں خدا ان کا حافظ و ناصر ہو اور