خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 226 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 226

خطابات ناصر جلد دوم ۲۲۶ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء چیز دوزخ میں گھسیٹے جانے سے بچاؤ کی صورت نہیں کرسکتی۔اور دنیا کو نیکی کی طرف لا نا دنیا کو موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف لانا یہ جماعت احمدیہ کا کام ہے۔اسی واسطے ہم کہتے ہیں کہ دائیں طرف سے شور بپا ہو بائیں طرف سے شور بپا ہو۔دوست بالکل توجہ نہ دیں ان کے لئے ایک کھلا راستہ ہے ایک شاہراہ ہے غلبہ اسلام کی۔اس سے نہ ہٹیں اس پر چلتے رہیں خدا تعالیٰ پر توکل رکھیں اس سے عاجزانہ دعائیں کریں وہ اپنے وعدوں کا سچا ہے اس نے محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے کہ آخری زمانہ میں اسلام تمام ادیان باطلہ پر غالب آئے گا اور نوع انسانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوگی۔یہ وعدہ تو ضرور پورا ہو گا۔ہم اس سلسلہ میں جو قربانی پیش کر رہے ہیں۔وہ تو انگلی کٹوا کر شہیدوں میں داخل ہونے والی بات ہے کیا ہماری قربانیاں اور کیا وہ نتائج جو اللہ تعالیٰ ان سے نکالنا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر کیا جائے کم ہے۔مجموعی لحاظ سے جماعت میں کمزور بھی ہیں اور بڑے فدائی بھی ہیں کبھی فکر بھی پیدا ہوتی ہے۔قرآن کریم آکر تسلی بھی دلا دیتا ہے قرآن کریم نے یہ اعلان کیا بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (النحل : ۹۷) کہ دس نیکیوں میں سے ایک نیکی جوسب سے اچھی ہو گی اور سو فیصدی نمبر لینے والی ہو گی اس کے مطابق دس کے نمبر دے دوں گا تو میں نے سوچا کہ فرد کے متعلق جب یہ حکم ہے تو ساری جماعت کے متعلق یہ کیوں نہیں اگر دسواں حصہ بھی جماعت کا ایسا ہو جو خدا سے یہ توفیق پائے کہ خدا کی منشا کے مطابق اس کے حضور ہر چیز قربان کرنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ کہے گا باقیوں کو بھی تمہارے ساتھ آگے لے جائیں گے۔جو آدمی کئی دنوں سے بھوکا ہو اور جو آدمی پیاسا ہو اور اسے کھانے پینے کے لئے کچھ نہ ملا ہو اور سامنے ایک محل نظر آئے اور اس کو بتایا جائے کہ دنیا جہاں کی نعمتیں یعنی پھلوں کے رس اور غذا ئیں وہاں پڑی ہوئی ہیں۔وہ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہو رہا ہے اس محل تک پہنچنے کے لئے تھوڑ اسا فاصلہ رہ گیا ہے مگر وہ کانٹوں سے بھرا ہوا ہے تو کیا وہ بیٹھ کر پاوں کے کانٹے نکالنے شروع کر دے گا یا کانٹوں کی پرواہ کئے بغیر دوڑتا ہوا اس محل میں جسے خدا نے اس کے لئے تیار کیا ہے اس میں داخل ہو جائے گا اور خدائی نعمتوں سے وہ حصہ لینے لگے گا۔پس ہمارا کام ہے دعائیں کرنا ہم دعائیں کرتے ہیں ہم دعائیں کرتے ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے استحکام اور اس کی خوشحالی کے سامان پیدا کرنے ہمارے ملک میں انصاف کا