خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 171
خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء دیتا ہے تا کہ سمجھنے والے سمجھیں اور پہچاننے والے پہچانے لگیں۔پھر ایک حصہ اللہ تعالیٰ کو پہچانتا ہے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد وہ پھر جھنجھوڑتا ہے اس طرح آہستہ آہستہ وہ انسان کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔آج صبح میں اپنی بہنوں کو بتا رہا تھا کہ انسان کو اس غرض سے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الثريت: ۵۷) ہماری اس کرہ ارض پر زندگی بہت چھوٹی ہے ہماری مجموعی طور پر گلی زندگی کے مقابلے میں۔یہ کوئی زندگی ہے پچاس، ساٹھ سال ، ستر سال ، چند ایک آدمی ہوتے ہیں جو سو، سوا سو سال کی عمر پاتے ہیں لیکن مرنے کے بعد جس زندگی کا انسان کو وعدہ دیا گیا ہے وہ نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ تھا کہ انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کر ے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ تھا کہ انسان کو اس لئے پیدا کیا جائے کہ وہ اس کی محبت اور پیار کو حاصل کرے اور اس کی رضا کی جنتوں کا وارث ہو۔یہ منشا ہے اور یہ منشا اس طرح بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انسان دو قسم کے ہیں اور ان کے لئے دو قسم کے راستے ہیں۔ایک سیدھا راستہ ہے جنتوں کے حصول کا۔اور وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو تعلیم ہمارے سامنے رکھی ہے ہم اس پر عمل کریں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو مومن ہونے کی حالت میں عمل صالح کرے گا ہمیشہ کی جنت اس کو دی جائے گی اور احسن جزاء اسے دی جائے گی اور حسابی طور پر جتنے کا وہ زیادہ سے زیادہ مستحق بنتا ہے خدا نے کہا ہے کہ میں اس سے بھی زیادہ دوں گا۔پس ایک تو خدا کی جنتوں تک رسائی کا یہ راستہ ہے جو کہ سیدھا ہے۔اس میں ابتلا آتے ہیں اس میں اس دنیا میں اس چھوٹی سی حیات میں تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اس میں بڑی پریشانیاں اٹھانی پڑتی ہیں، اس میں ذہنی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ تم ان کی زبانوں سے بھی ایڈ اسنو گے۔انسانی فطرت ہے کہ بعض باتیں اسے دکھ پہنچاتی ہیں اس کے لئے سکھ اور راحت کا باعث نہیں ہوتیں۔خدا نے کہا کہ یہ سب درست ہے لیکن اگر میرے پیار کے حصول کے لئے تم یہ تکالیف برداشت کرو گے، اگر تم میرے انعامات کے حصول کے لئے ان امتحانوں میں سے کامیاب گزرنے کے لئے کوشش کرو گے تو تمہیں ایسی زندگی ملے گی جو نہ ختم ہونے والی ہے جو جنتوں کی زندگی ہے۔یہ