خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 170 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 170

خطابات ناصر جلد دوم ۱۷۰ دوسرے روز کا خطاب اار دسمبر ۱۹۷۶ء وقت سے لے کر اس وقت تک آ رہے ہیں یعنی جو پچھلے چھیاسی سال میں آئے تو ایک زمانہ میں کم تعداد میں اور ایک زمانہ میں کثرت کے ساتھ زلزلے آئے اور کثرت والا زمانہ اب پھر پچھلے چار پانچ سال کا ہے۔اخباروں میں بھی اس کے متعلق خبر آئی تھی کہ زلزلے کے بعد زلزلہ آیا اور غالبا لاکھوں آدمی ان چند سالوں میں زلزلوں نے ہلاک کر دئے۔اسی طرح اُن حادثات کو لیں جن کا بظاہر انسان سے تعلق ہوتا ہے جیسے کہ بسوں کو ڈرائیو کرنا ، چلانا ( یہ ذرا باریک فلسفہ ہے) یہ انسان کا کام ہے انسان ڈرائیو کرتا ہے لیکن جب ہم نے بسوں کی تاریخ پر غور کیا تو ایک زمانہ ایسا آیا کہ جب بسوں کے بہت کم حادثات ہمیں نظر آئے اور ایک وہ وقت آیا کہ ہمارے اپنے ہی ملک میں ( میں تو اس وقت دنیا کی بات کر رہا ہوں اپنے ملک کی بات نہیں کر رہا) تاہم ہمارے اپنے ہی ملک میں قریباً روزانہ دو تین چار بسوں کے حادثات ہو جاتے تھے۔جن میں بہت سی جانیں ہلاک اور بہت سی زخمی ہوتیں۔بہت سے لوگ اس سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اور بہت سے اس کو نظر انداز بھی کر جاتے ہیں اور آنے والے حوادث کا انتظار کرتے ہیں کہ شاید وہ انہیں جھنجھوڑ کے رکھ دیں اور خدا تعالیٰ کی یاد کو ان کے دلوں میں تازہ کریں۔کم و بیش ایک سال کی بات ہے کہ ایک دوست جو کہ ہم سب کے ہی دوست ہیں اور اُن کے چند ساتھی بس میں سفر کر رہے تھے کہ حادثہ ہوا اور ایک وہیں وفات پاگئے اور دو کی لاتیں وغیرہ جسم کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔یہ ایک گروپ تھا جو لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے مہدی معہود کے خلاف اور اس مہم کے خلاف جو آسمانوں سے اسلام کو غالب کرنے کے لئے جاری کی گئی ہے بہت باتیں کرتے تھے۔اب چند دن ہوئے ان میں سے ایک صاحب نے ایک احمدی کو بلایا اور کہا کہ ہم نے جو زور لگا نا تھا لگا لیا لیکن تمہیں نا کام نہیں کر سکے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ تم حق پر ہو اور سچائی تمہارے ساتھ ہے۔یہ تو ایک چھوٹی سی مثال ہے، ساری دنیا میں بعض زمانوں میں الہی قدرت کی تاریں ہلائی جاتی ہیں اور بڑی کثرت سے اس قسم کے حادثات ہونے شروع ہو جاتے ہیں کبھی زلزلے آ رہے ہیں، کبھی سمندر میں غرق ہو رہے ہیں کبھی سال سال بھر آپ کو کوئی ایسی خبر نہیں ملتی کہ کسی ہوائی جہاز کا حادثہ ہوا ہو اور کبھی ہر روز دو دو حادثات کا ذکر آنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ جو نقشہ ہے ، جو پیٹرن (pattern) ہے یہ بھی اسلامی تعلیم کے عین مطابق ہے کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی جھنجھوڑتا ہے اور کبھی ڈھیل