خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 169 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 169

خطابات ناصر جلد دوم ۱۶۹ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء اسلام تو نرمی خوش خلقی ، نرا پیار اور نری محبت ہے جلسه سالانه فرموده ۱۱ار دسمبر ۱۹۷۶ ء بمقام ربوہ تشہد وتعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔قریباً چھیاسی برس کا عرصہ ہوا قادیان میں ایک ایسا شخص جوانی کو پہنچ رہا تھا کہ ہر وقت اس کی توجہ اور اس کا خیال قرآن کی طرف رہتا تھا اور اس میں وہ خوش تھا اور جو روحانی غذا اسے قرآن عظیم سے ملتی تھی اس کے مقابلہ میں اگر اس کے اپنے عزیز اور رشتہ دار سے جسمانی غذا دینا بھول جاتے تو اس کی بھی وہ پرواہ نہ کرتا۔نہ اسے اس کا احساس ہوتا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے جس مقصد کے لئے پیدا کیا تھا اور جو کام خدا تعالیٰ اس سے لینا چاہتا تھا اس کے پیش نظر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا کہ اٹھ اور دنیا کو مخاطب کر اور دنیا کے کونے کونے میں جا اور دنیا سے کہہ کہ اللہ ایک ہے اور محمد اس کا رسول اور خدا تعالیٰ نے اسے کہا کہ تجھے ان پیشگوئیوں کے پورا کرنے کے لئے کھڑا کیا گیا ہے جو تیرہ سو سال پہلے اسلام میں کی گئیں اور وہ بشارتیں جو غلبہ اسلام کے متعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تھیں ان کو تیرے ہاتھ سے اور تیرے ذریعہ سے پورا کیا جائے گا۔اُس دن سے جس دن سے کہ اس شخص کو جسے ہم مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ کہا گیا اُس دن سے ایک عظیم آسمانی منصوبہ شروع ہوا اور اس کی بنیاد رکھی گئی اور میں تو علی وجہ البصیرت کہہ سکتا ہوں کیونکہ میں نے اس پر بڑا غور کیا اور مجھے یہی سمجھ آئی کہ اُس دن سے دنیا میں کوئی بھی ایسی اہم بات نہیں ہوئی کوئی بھی ایسا اہم واقعہ نہیں ہوا جس نے انسانی زندگی میں کوئی انقلاب بپا کرنا تھا کہ اس کا تعلق اس تدبیر آسمانی سے نہیں تھا کہ مہدی علیہ السلام اور ان کی جماعت کے ذریعہ سے دنیا میں اسلام کو غالب کیا جائے۔دنیا کی تاریخ تو بڑی وسیع ہے، بڑی دنیا ہے۔اور واقعات بھی بڑے ہوئے اگر ہم زلزلوں ہی کو لیں جو اُس