خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 160 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 160

خطابات ناصر جلد دوم 17۔اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۵ء کی گردن کاٹ کر احمدیت کو مٹادیں گے لیکن اگر اسلام کو زندہ کرنے کے لئے ہمیں گردنیں کٹوانی پڑیں تو خدا کی قسم ہم میں سے ہر ایک خدا کی راہ میں گردن کٹوادے گا۔(نعرہ ہائے تکبیر ) لیکن خدا تعالیٰ کی بشارتیں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ ہم مرنے کے لئے نہیں بلکہ ہم خود زندہ رہنے اور دوسروں کو زندہ کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔خدا تعالیٰ کی بشارتیں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ ہم شکست کھانے کے لئے نہیں بلکہ ہم کامیاب و کامران ہونے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔خدا کی آواز ہمیں یہ کہتی ہے کہ ہماری فطرت میں ناکامی کا خمیر نہیں ہے اور خدا تعالیٰ کی یہ بشارت کہتی ہے کہ ہم دکھ دینے کے لئے نہیں ہم دنیا کو سکھ پہنچانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ہم مارنے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کو زندہ کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔دنیا ہمارے ساتھ جو چاہے سلوک کرے ہم اپنی طرف سے انشاء اللہ انتہائی کوشش کریں گے کہ ہمارے ذریعہ سے انسان کو وہ زندگی حاصل ہو جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔پس ہم دعائیں کریں گے اس وقت کی دعا میں بھی اور ہمیشہ یہ دعائیں کرتے رہیں گے کہ اے خدا! وہ مردہ جو زندہ ہونے کے لئے بھی تیار نہیں اس کو زندہ کرنے کا کام تو نے ہمارے سپرد کیا ہے ہماری مدد کو آسمان سے فرشتوں کو نازل کرتا کہ تیری مرضی پوری ہو اور وہ جو آج دنیا میں مردہ لاشیں نظر آتی ہیں ان میں زندگی کی روح کروٹیں لینے لگے اور تیری بشارتوں اور تیرے ارادوں کے مطابق دنیا میں جلد ایک انقلاب عظیم بپا ہو جائے آ ؤ دعا کرلیں۔ایک لمبی اور پر سوز اجتماعی دعا کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ تمام احباب کو خیر سے گھروں کو لے کر جائے اور خیر سے وہاں رکھے اور ہمیشہ خیر ہی خیر ان کے ساتھ رہے۔از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )