خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 159
خطابات ناصر جلد دوم ۱۵۹ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء پس وہ لوگ جو اہل کتاب ہیں دوست ان کے لئے بھی دعا کریں کہ اے خدا ! اہل کتاب جن کی کتابیں اپنا زمانہ گزار چکیں۔تو ان کو یہ توفیق دے کہ وہ اس قرآن عظیم پر ایمان لے آئیں جو قیامت تک قائم رہنے والی کتاب ہے اور ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے والی کتاب ہے غرض دہریوں کے لئے بھی دعا کریں اہل کتاب کے لئے بھی دعا کریں بد مذہبوں کے لئے دعا کریں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ محاورہ استعمال فرمایا ہے یعنی ایک ہے لامذہب دھر یہ اور ایک ہے بد مذہب۔بد مذہب وہ لوگ ہیں جن کی طرف کسی وقت رسول آیا مگر پھر وہ اس رسول کا نام بھی بھول گئے۔اس کی کتاب بھی انہیں یاد نہیں رہی صرف رسوم کا پلندہ رہ گیا اسے وہ مذہب سمجھ رہے ہیں۔تو وہ مذہب ہے بھی اور مذہب نہیں بھی۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس گروہ کا نام بد مذہب رکھ دیا افریقہ میں بعض ایسے قبائل ہیں جن کو ہم بد مذہب کہہ سکتے ہیں دوست ان کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے سامان پیدا کرے۔پھر دنیا اپنے ہی ہاتھ سے ایسے سامان پیدا کر رہی ہے کہ اگر ان کا بس چلے تو شاید وہ دنیا کو مٹادیں۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں کو پکڑے اور ہلاکت کے سامان بنانے سے ان کو روک دے۔ان کو انسان کی تباہی کے سامان نہ کرنے دے۔بنی نوع انسان کو ان کی شرارت سے محفوظ کر دے۔ہلاکت کے سب سامان خود بخود ہی ختم ہو کر رہ جائیں وہ انسان کو تباہ کر کے خود بھی تباہ نہ ہو جا ئیں۔پھر وہ لوگ بھی جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔اے دل تو نیز ، خاطر ایناں ، نگاہ دار کا خر کنند ، دعوی حب پیمبرم ( در مشین فارسی صفحه ۱۰۷) غرض وہ لوگ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی توفیق دے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی پیار کریں اور عملاً جاں نثاری کا مظاہرہ کریں اور اسلامی تعلیم کی روشنی میں وہ اپنی زندگیوں کو گزارنے والے ہوں۔پھر یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے جسے دنیا کبھی مرزائی کہتی ہے اور کبھی قادیانی مگر وہ تو جماعت احمد یہ ہے جو اگر چہ دنیا کی دھتکاری ہوئی جماعت ہے آج دنیا اسے حقیر سمجھتی ہے۔دنیا اس پر ہر قسم کے جھوٹے اعتراض کرتی ہے اور کئی قسم کے الزام لگاتی ہے اور دنیا یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ایک ایک احمدی