خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 161
خطابات ناصر جلد دوم 171 ہم رب کریم کی رضا کے حصول کی خاطر یہاں جمع ہوئے ہیں افتتاحی خطاب ۱۰ر دسمبر ۱۹۷۶ء افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۱۰ر دسمبر ۱۹۷۶ء بمقام ربوه حضور انور نے فرمایا:۔اللہ کے محبوب کے پیارے کی جماعت السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔پھر تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت سے بھی یہ کہا اور دُنیا کے سامنے بھی اس بات کو رکھا کہ اس جلسہ کی بنیادی اینٹ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اس لئے آپ نے فرمایا جماعت احمدیہ کا جو سالانہ جلسہ ہے یا دوسرے اجتماعات ہیں انہیں اور ان جلسوں کے انعقاد کی غرض یہ اور صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید جیسی کہ قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے اس کا ذکر کیا جائے یعنی سُننے والوں کے سامنے خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق قرآنی تعلیم پیش کی جائے۔ہم اکٹھے ہو کر اللہ کی باتیں سنیں۔خدا تعالیٰ کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کے جلال کے جو جلوے دُنیا پر ظاہر ہو رہے ہیں اُن کے متعلق ہمارا علم بڑھے۔خدا تعالیٰ کی عظمت اور شان کو دیکھ کر ایک طرف ہمارے دل میں اس کی خشیت پیدا ہو اور دوسری طرف اس کی محبت سے ہمارے دل معمور اور لبریز ہو جائیں۔پس ہم یہاں اس لئے اکٹھے ہوتے ہیں کہ یہ باتیں جو تو حید خالص کے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم تک پہنچیں ، قرآن کریم جو اللہ کا کلام ہے یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جو تفسیر بیان فرمائی ہے اس کے ذریعہ سے یہ باتیں ہم تک پہنچیں۔ان کی یاد دہانی ہوتی ہے جو نئی نسلیں ہیں اُن کے کانوں میں یہ باتیں پڑیں۔اور اب تو ایک اور فوج آ رہی ہے جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام کے اندر جن میں اس سے قبل اسلام کا کوئی پتہ ہی نہیں