خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 3 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 3

خطابات ناصر جلد دوم افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء ملکوں کا تنزل دو طرح ہوتا ہے۔یا تو اس لیے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ماننے سے انکار کرتا ہے کہ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم : ٤٠)۔یعنی جتنی خدمت تم لینا چاہو گے، اتنی خدمت تمہارا ملک کرے گا اور یا اس لئے ننزل آ جاتا ہے یا کمزوری پیدا ہو جاتی ہے کہ انسان کا تعلق اپنے رب سے مضبوط نہیں رہتا اور انسان خود اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ جاتا ہے شاید اس مضمون کے متعلق میں اپنی پرسوں کی تقریر میں احباب کو کچھ بتاؤں گا، میں چاہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے اعتقادات کے متعلق بڑوں کو یاد دلاؤں اور چھوٹوں کو سمجھاؤں کہ ہمارے کیا اعتقادات ہیں۔غرض جیسا کہ میں نے بتایا ہے قرآن کریم نے یہ بھی کہا ہے کہ زمین کو انسان کا خادم بنایا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ وہ اپنے خادموں سے جتنی خدمت لینا چاہے گا۔اتنی یہ خدمت کریں گے۔پکے ہوئے پھل اس کی جھولی میں نہیں گریں گے۔درختوں سے توڑنا پڑیں گے۔بعض پھلدار درخت کانٹوں والے ہوتے ہیں۔اُن پر سے پھل توڑنے والوں کو کانٹے بھی چھتے ہیں لیکن جب تک کانٹے نہ چھیں ، پھل حاصل نہیں ہوتا۔لیکن جہاں خدا تعالیٰ کی یہ عام تقدیر اور قانون کارفرما ہے وہاں خدا تعالیٰ نے اپنا ایک خاص قانون بھی بنایا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی مخلوق کے ہر فعل کے متعلق اُسے حکم دیتا ہے۔قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ کوئی پتا درخت سے نہیں گرتا جب تک اُسے گرنے کا الہی حکم نہ ہو۔گویا یہ قانونِ قدرت ہے کہ اپنے موسم پر پت جھڑ ہو اور اس میں خدا تعالیٰ کی شان نظر آتی ہے۔کئی بیوقوف انسان دُنیا میں ایسے بھی پیدا ہوئے جو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اتنی بڑی ہستی ہے، زید یا بکر سے وہ ذاتی تعلق کیوں رکھے؟ آخر اس عالمین اور اس یونیورس (Universe) میں انسان کی کیا حیثیت ہے۔خدا تو بڑی شان کا مالک ہے۔یہ دراصل ایک شیطانی خیال ہے۔اس قسم کے لوگوں کی اکثریت یہودیوں میں پائی جاتی ہے۔قرآن کریم نے جس قادر و توانا، متصرف بالا رادہ اور تمام طاقتوں اور قدرتوں والے خدا کا ہم سے تعارف کروایا اور عرفان بخشا ہے، کوئی چیز بھی اُسے تھکانے والی یا کوفت دینے والی نہیں ہے نہ اسے نیند آتی ہے نہ اونگھ۔وہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔اُس کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔انسان سمجھتا ہے جس طرح مجھے تکلیف ہوتی ہے اسی طرح خدا کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔کسی کے ہاں پانچ بچے ہو جائیں تو گویا اُسے بڑی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ گیا۔چنانچہ اسی