خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 4
خطابات ناصر جلد دوم افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء تکلیف سے انسان کو فیملی پلاننگ کا خیال آ گیا۔جن بچوں سے گھروں کی رونق تھی۔لوگ ان بچوں کو گھروں سے باہر رکھنے کے سامان پیدا کرنے لگ گئے۔ویسے یہ ایک الگ مضمون ہے، میں نے اس کا ضمنا ذکر کر دیا ہے۔میں فیملی پلاننگ پر تنقید نہیں کر رہا۔یہ آپ کے اور میرے سوچنے والی باتیں ہیں۔غرض خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ اے لوگو! اگر تم مجھے اس حد تک ناراض کر لو کہ میں اپنا غضب تم پر نازل کرنا چاہوں تو بادل پانی برسانا چھوڑ دیں گے۔کنوئیں خشک ہو جائیں گے، فصلوں میں دانہ نہیں لگے گا۔یہ کائنات جو تمہاری خادم بنائی گئی ہے خدمت سے انکار کر دے گی۔ہم نے بہر حال دعائیں کرنی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بعض ایسے واقعات بتائے ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ پوری قوم نہیں تو اگر اس کا ایک حصہ بھی دعائیں کرنے والا اور دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرنے والا اور اس کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کو جذب کرنے والا ہو تو ساری قوم دنیوی رحمتوں اور برکتوں میں شامل ہو جاتی ہے۔۔یہ ذمہ داری کہ دعاؤں کے ساتھ ہم اپنے ملک کے استحکام اور اس کی خوشحالی کے سامان پیدا کریں، بہت بڑی حد تک جماعت احمدیہ پر عائد ہوتی ہے۔کیونکہ یہ تو ہمات کی دنیا ہے، یہ منطق و فلسفہ کی دنیا ہے، یہ ایسے سائنسدانوں کی دُنیا ہے جنہوں نے خدائی صفات کے ایک حصے کو سمجھا اور دوسرے کو سمجھ بھی نہ سکے، اس دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یا تو خدا کو مانتے ہی نہیں اور اگر مانتے ہیں تو ان کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ اُن کے ساتھ خدا کا زندہ تعلق بھی پیدا ہو سکتا ہے چنانچہ اسلام نے صرف تعلیم ہی نہیں دی بلکہ اس پر عمل کرنے اور خدا کو پانے کی تلقین بھی کی ہے۔اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں کروڑوں انسان دُنیا کے گوشے گوشے اور ملک ملک میں ایسے پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اپنے رب کریم سے ایک زندہ تعلق پیدا کر کے اس کی طاقتوں کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دُنیا کو بھی مشاہدہ کروایا کہ دیکھو خدا تعالیٰ کیسی صفاتِ حسنہ کا مالک ہے۔انسان اگر خدا کی قدرت کے جلوے دیکھنا چاہے تو وہ دیکھ سکتا ہے۔غرض میں بتا یہ رہا ہوں کہ تدبیر کے علاوہ خدا تعالیٰ سے پیار کا ایک زندہ تعلق رکھ کر ہم نے