خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 2 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 2

خطابات ناصر جلد دوم افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرمایا ہے کہ ہم نے زمین و آسمان اور اس کی ہر چیز کو انسان کی خدمت کے لیے بنایا ہے اللہ تعالیٰ نے مثلاً مجھے اور آپ کو جو پاکستان کے شہری ہیں، ان کو پاکستان کے متعلق اور وہ دوست جو مختلف ممالک سے آئے ہوئے ہیں اور ہماری بیرونی جماعتوں کے نمائندے ہیں اُن کو ان کے ملکوں کے متعلق یہ کہا کہ تمہارے ملک کی ہر چیز تمہاری خادم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کی ہر شے کو حکم دیا ہے کہ وہ انسان کی خدمت کرے۔جس طرح ماں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے بچے کو پالے اور اس کی خدمت کرے اسی طرح ملک کو حکم دیا مثلاً ہمارے اس ملک پاکستان کی ان پہاڑیوں کو بھی اور مٹی کے جن اجزاء سے یہ اینٹیں بنی ہیں اُن کو بھی ، ان درختوں کو بھی اور جو غذا یہ درخت لے رہے ہیں اُسے بھی ، علی هذا القياس ہر چیز کو خدا نے حکم دیا ہے کہ وہ اُس کے بندے کی خدمت کرے اور اُس نے اپنے بندے کو یہ کہا کہ دیکھو! تمہارے لیے خادم میں نے پیدا کر دیئے ہیں، لیکن ان کی خدمت پر ایک شرط بھی لگا دی ہے۔فرمایا ان چیزوں کو صرف یہ حکم نہیں دیا گیا کہ وہ خدا کے بندوں کی خدمت کریں بلکہ یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ اگر لوگ خدمت لیں تو خدمت کرنا ورنہ نہ کرنا۔فرمایا: - لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم : ٤٠) کہ انسان جتنی کوشش کرے گا۔اپنے خادموں سے جتنی خدمت لے گا اتنی ہی وہ خدمت کریں گے۔پاکستان ہمارا وطن ہے۔اس میں بسنے والے احمدیوں کا یہ وطن ہے۔اس وطن میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا مرکز بنایا ہے۔اس ملک میں بسنے والوں کا ایک فیصد یا نصف فیصد یا چوتھائی فیصد یا اس سے بھی کم ایسا ہے جس میں شرافت نہیں ان کے کہنے سے ہمارا مرکز کسی اور ملک میں نہیں جائے گا۔جس قدر چاہیں وہ افواہیں پھیلاتے رہیں۔ہمارا یہ ملک ہے۔جس طرح ایک لاکھ میں سے ننانوے ہزار نوسوننانوے پاکستانی شریف شہریوں کا یہ ملک ہے، اسی طرح احمد یوں کا بھی یہی ملک ہے ہم نے بھی اسی ملک میں رہنا ہے اور اس ملک نے ہماری اسی طرح خدمت کرنی ہے جس طرح ماں اپنے بچے کی خدمت کر رہی ہوتی ہے۔خدا نے ماں کو کہا کہ بچے کو دودھ پلا اور بچے کے کان میں یہ پھونکا کہ روئے گا تو ماں کی چھاتیوں میں دودھ اُترے گا ورنہ نہیں اُترے گا، ہم نے اس ملک سے خدمت لینی ہے، ہم نے اس ملک سے اس طرح خدمت لینی ہے کہ پاکستان جو ہمارا پیارا ملک ہے، وہ دُنیا کے معزز ترین ممالک میں شمار ہونے لگے۔