خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 99 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 99

خطابات ناصر جلد دوم ۹۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء حربہ اختیار کیا کہ اپنی دولت کے بل بوتے پر سکول کھولے، اور اگر اسلام کے ظاہری علوم رکھنے والے علماء کے بچوں کو بھی ان سکولوں میں داخل ہونے کا شوق ہوا تو جب ان کے محمد نام کے بچے کو اپنے سکول میں داخل کیا تو اس کا نام پہلے ہی دن محمد کی بجائے پہلا حرف ایم اور ساتھ پیر لگا کر لکھ دیا اور وہ ”محمد“ نام کا بچہ ایم پیڑ بن گیا اور جب سکول سے باہر نکلا تو وہ عیسائی تھا۔بعض جگہ وہ یہ حرکت نہیں کر سکے مثلاً ہندوستان میں۔لیکن ہندوستان میں ہندوؤں میں سے بھی اور سکھوں میں سے بھی اور دوسری اقوام میں سے بھی اور بدقسمتی سے کچھ لوگ مسلمانوں میں سے بھی عیسائی ہو گئے۔ہم نے بڑا سوچا لیکن مسلمان کے عیسائی ہونے کی اور کوئی وجہ ہمیں نظر نہیں آئی سوائے اس کے کہ ایسے مسلمان جو اسلام کو چھوڑ کر کسی اور مذہب کی طرف جاتے ہیں وہ صرف وہی ہو سکتے ہیں کہ جن کو اپنے دین یعنی اسلام کا اور قرآن کریم جیسی حسین شریعت کا علم ہی نہیں ہے اور اس واسطے اس کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔فلسفے نے اور طبیعات وغیرہ سائنسز نے اسلام پر حملہ کیا اور ایک وقت میں یہ سمجھا گیا کہ سائنس اور مذہب ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور بڑے لیکچر بھی ہوئے کہ کیا سائنس کا مذہب کے ساتھ تصادم ہے۔ان کی کوئی مخاصمت ہے اور کیا یہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں یا کیا مذ ہب سائنس کو کھا جائے گا یا سائنس مذہب کو کھا جائے گی۔دنیائے اسلام میں اس وقت اتنی لاعلمی اور جہالت پھیلی ہوئی تھی کہ ساری دنیا میں ، افریقہ میں بھی اور جزائر میں بھی ، لوگ بڑی کثرت کے ساتھ اسلام کو چھوڑ کر عیسائی ہورہے تھے۔اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کے دل میں اسلام کا درد تھا لیکن فلسفے کا اور سائنس کا جو اسلام پر حملہ تھا اور جو کہ محض جہالت کا حملہ تھا چونکہ ان لوگوں کو اس کا جواب نہیں آتا تھا اس واسطے انہوں نے یہ پر چار کرنا شروع کیا اور یہ تبلیغ کرنی شروع کی کہ ان کے سکولوں میں نہ داخل ہو اور ان کے علوم نہ پڑھو۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ : سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنهُ (المجانية : ۱۴) کہ خدا تعالیٰ نے اس یو نیورس (universe) کی ، اس عالمین کی ، اس کائنات کی ہر چیز کو بہت سے خواص دے کر تمہاری خدمت کے لئے پیدا کیا ہے اور انہیں تمہارے خادم بنا دیا ہے لیکن مسلمانوں کو ان کے بزرگوں کو یہ کہا گیا کہ خادموں کی جو عادات واطوار ہیں اور خواص ہیں اور ان کے متعلق جو علوم ہیں جن کے نتیجہ میں ہم ان سے خدمت لے سکتے