خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 98 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 98

خطابات ناصر جلد دوم ۹۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء جن کی کہ وہ مالک نہیں تھیں اور جن کی وہ حاکم نہیں تھیں تو کبھی تو ان علاقوں میں پہلے ان کی فوجیں داخل ہوتی تھیں اور بعد میں پادری داخل ہوتے تھے اور کبھی پہلے پادری داخل ہوتے تھے اور بعد میں فوجیں داخل ہوتی تھیں۔مغربی افریقہ میں پادری اور فوجیں آگے پیچھے ہی آئی ہیں البتہ زیادہ نمایاں ہو کر ان علاقوں میں پہلے پادری آئے۔ایک موقع پر میں نے وہاں کے افریقن دوستوں سے کہا کہ یہ تو ایک تاریخی حقیقت ہے جسے ہم تسلیم کرتے ہیں کہ جس وقت پادری تمہارے ملکوں میں آئے تو انہوں نے اپنی زبان سے اعلان یہ کیا کہ ہم خداوند یسوع مسیح کی محبت کا پیغام لے کر تمہارے پاس پہنچے ہیں لیکن ان پادریوں کی قطاروں کے پیچھے ان ممالک کی فوجیں تمہارے ملکوں میں داخل ہوئیں اور ان کے ساتھ تو ہیں تھیں اور ان تو پوں کے دہانوں سے پھول نہیں جھڑے تھے۔ان تو پوں کے دہانوں سے جو کچھ نکلا تھا اور جس طرح سے انہوں نے تمہیں تباہ کیا تھا وہ تم مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔لیکن میں نے انہیں کہا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کا پیغام لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور اس پیغام کے پیچھے کوئی فوج تمہارے ملک میں داخل نہیں ہوگی۔جیسا کہ تم دیکھ ہی رہے ہو۔کیونکہ جب میں نے ان سے خطاب کیا تو بعض ملکوں میں تمہیں تمہیں چالیس چالیس سال سے اور بعض علاقوں میں پچاس سال سے ہمارے مبلغ کام کر رہے تھے۔وہاں جو چیز ہمیں نظر آئی وہ یہ تھی کہ پہلا ملک جس میں میں گیانا کیجیر یا تھا۔وہاں دو دن میں ہی میری طبیعت نے یہ تاثر لیا کہ خدا تعالیٰ نے اس قوم کو دنیوی مال و دولت سے مالا مال کیا تھا لیکن یہ باہر سے آنے والے ہر چیز لے کر باہر چلے گئے۔میں نے ایک افریقن دوست سے کہا کہ تمہیں خدا نے سب کچھ دیا تھا لیکن ہر چیز سے ہی تمہیں محروم کر دیا گیا۔اس وقت جو سربراہ مملکت تھے میں جب اگلے روز ان سے ملا تو میں نے انہیں یہ بات بتائی کہ کل میں نے ایک احمدی دوست سے جن کا تعلق نائیجیریا سے ہے اپنے اس تاثر کا اظہار کیا تھا تو وہ کہنے لگے کہ !How true you are, How true you are کہ کتنی سچی بات آپ نے کہی۔یہ تو ان فوجوں کا حال تھا جو خداوند یسوع مسیح کی محبت کا پیغام لانے والے پادریوں کے پیچھے تھیں اور جو پادری وہاں آئے ان کا یہ حال تھا کہ عیسائیت کی تعلیم تو اپنا وقت گزار چکی اور انسانی ہاتھ نے اس میں تحریف اور تبدیلی کر دی تھی لیکن انہوں نے عیسائیت کو پھیلانے کے لیے یہ