خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 100 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 100

خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء ہیں ان کو تم نے نہیں پڑھنا۔اگر مسلمان ان کو جانتا ہی نہیں ہوگا تو پھر وہ ان سے خدمت کیسے لے گا؟ لیکن بہر حال ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب اس قسم کی باتیں کہی گئیں۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور تاریخ کے صفحات نے اس کو محفوظ کیا ہے اس لئے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ان حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت مہدی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک خوشخبری اور بشارت دی چنانچہ اس علمی جنگ کے متعلق آپ فرماتے ہیں۔یہ پیشگوئی یاد رکھو کہ عنقریب اس لڑائی میں بھی دشمن ذلت کے ساتھ پسپا ہوگا اور اسلام فتح پائے گا۔حال کے علوم جدیدہ کیسے ہی زور آور حملے کریں۔کیسے ہی نئے نئے ہتھیاروں کے ساتھ چڑھ چڑھ کر آویں مگر انجام کاران کے لیے ہزیمت ہے۔میں شکر نعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ اسلام کی اعلی طاقتوں کا مجھ کو علم دیا گیا ہے جس علم کی رو سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اسلام نہ صرف فلسفہ جدیدہ کے حملہ سے اپنے تئیں بچائے گا بلکہ حال کے علوم مخالفہ کو جہالتیں ثابت کر دے گا۔اسلام کی سلطنت کو ان چڑھائیوں سے کچھ بھی اندیشہ نہیں ہے جو فلسفہ اور طبعی کی طرف سے ہو رہے ہیں۔اس کے اقبال کے دن نزدیک ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آسمان پر اس کی فتح کے نشان نمودار ہیں۔یہ اقبال روحانی ہے اور فتح بھی روحانی۔تا باطل علم کی مخالفانہ طاقتوں کو اس کی الہی طاقت ایسا ضعیف کر دیوے کہ کا لعدم کر دیوے۔“ ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۵۴، ۲۵۵ بقیه حاشیه ) پھر آپ نے فرمایا کہ یہ کام میری جماعت کے سپرد کیا گیا ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ ”میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے“ تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۰۹) پس ہم جو کہ احمدی ہیں ہمارے ذمہ خدا تعالیٰ نے یہ کام لگایا ہے کہ علوم جدیدہ کے جو حملے اسلام پر ہورہے ہیں ( جو کہ بظاہر بڑے زبردست تھے اور اب بھی بعض لوگ جنہیں علم نہیں ہوتا وہ گھبرا جاتے ہیں ) ہم ان حملوں کا منہ بند کریں اور ان کی جہالتوں کو ثابت کریں۔اس کا مطلب