خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 97 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 97

خطابات ناصر جلد دوم ۹۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء مسجد اللہ کا گھر ہے اس پر کسی اور کی ملکیت اسلام تسلیم ہی نہیں کرتا دوسرے روز کا خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔کچھ نوجوان جو غالبا نئے احمدیت میں داخل ہوئے ہیں یا ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں ابھی پوری طرح تربیت حاصل نہیں ہے وہ اس جلسہ گاہ میں بھی جس کا کہ اپنا ایک تقدس اور احترام ہے ”اوئے کی آواز نکال رہے ہیں۔اس کے بعد میرے کان اس آواز کو نہ سنیں۔پھر حضور انور نے فرمایا:۔عام طور پر اس تقریر کے شروع میں اخباروں اور کتب وغیرہ کے متعلق تحریک کی جاتی ہے کہ میں دلچسپی اور دوست ان میں دلچسپی لیں۔اس ضمن میں آج میں پہلے ایک اصولی اور اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اس دنیا میں جس میں ہم پیدا ہوئے اور زندگی گزار رہے ہیں دنیوی لحاظ سے دنیوی علوم نے دی ترقی کی ہے۔تھیوریٹکل سائیڈ پر بھی اور پریکٹیکل سائیڈ پر بھی۔اصولی طور پر علوم نے بڑی ترقی کی ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کائنات کو بے حد و حساب صفات سے متصف کر کے اپنے جلووں کے نتیجہ میں انسان کا خادم بنایا ہے۔انسان نے اس کی ڈسکوریز (Discoveries) کیں اور اس کے خواص معلوم کئے اور ان سے فائدہ اٹھانے یا اپنے مخالفوں کو زک دینے کے سامان پیدا کئے۔شروع میں جس وقت کہ یہ تحریک زوروں پر آئی تو چونکہ دنیا کے حاکم غیر مسلم تھے اس لئے ان حاکموں کے ساتھ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے علماء اور پادری وغیرہ منسلک تھے۔اس لحاظ سے اگر مثلاً عیسائیت کو لیا جائے تو یہ لوگ مختلف ممالک میں گئے اور یہ کلونیل پاو پاورز (Colonial Powers) یعنی استحصال کرنے والی طاقتیں جب ان خطوں میں داخل ہوئیں