خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 547 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 547

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۴۷ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار مکمل ہوگا تو اس کے اوپر وہ خرچ کریں گے۔علاوہ ازیں انعامی مضامین لکھوانے کا پروگرام تھا جو فی نفسہ بڑا ہی اہم نہایت ضروری اور بڑا ہی مفید پروگرام ہے لیکن نہ جماعت کے دوستوں نے اس کی طرف پوری توجہ کی اور نہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے منتظمین نے جماعت کو کما حقہ توجہ دلائی۔چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک سال ایسا بھی آیا کہ اس میں ایک مقالہ بھی معیاری نہیں تھا اور عملاً کسی سال میں بھی پانچ دس سے زیادہ مقالے نہیں آئے۔پانچ چھ مقالے سال کے حساب سے آ رہے ہیں۔چنانچہ ۱۹۷۰ء میں چھ مقالے آئے۔اس سے اگلے سال سات مقالے موصول ہوئے۔اس سے پہلے 1949ء میں جو چند مقالے آئے تھے ان کے انعام کا فضل عمر فاؤنڈیشن نے اب تین سال کے بعد اعلان کیا ہے۔ظاہر ہے یہ بھی ایک انتظامی خرابی ہے۔جس کام کا نتیجہ جتنا جلد تر ممکن تھا اتنا جلد نہ نکلے تو اس میں حصہ لینے والوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں رہتی۔مثلاً حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق کہ گھوڑوں کی پیشانی میں امت مسلمہ کے لئے قیامت تک خیر و برکت کے سامان رکھے ہیں۔میں نے جماعت کو ایک تحریک کی تھی کہ دوست گھوڑوں اور ان کی افزائش نسل کی طرف توجہ کریں۔چنانچہ اچھی نسل کے گھوڑے پالنے میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے ہم نے اس سال بھی گھوڑ دوڑ کرائی۔اب فرض کریں کہ گھوڑ دوڑ تو اس سال ہوتی اور ان کو انعام تین سال کے بعد دیا جاتا تو اگلے سال کسی نے گھوڑ دوڑ میں شامل نہیں ہونا تھا لیکن گھوڑ دوڑ ختم ہوئی اور وہیں اول دوم آنے والے گھوڑوں کے مالکوں میں سے کسی کو پانچ کسی کو دس اور کسی کو پندرہ کسی کو بیس روپے بطور انعام مل گئے اور وہ خوشی خوشی اپنے گھروں کو چلے گئے۔غرض کسی کام میں دلچسپی پیدا کرنے کا یہ بھی ایک ذریعہ ہے کہ جلد از جلد انعام دے دیا جائے۔پس میں فضل عمر فاؤنڈیشن کی انتظامیہ سے یہ کہتا ہوں کہ اگر آپ تین سال کے بعد کسی کو انعام دیں گے تو اس مقالہ نویسی میں کوئی دلچسپی نہیں رہے گی۔اب مثلاً ۱۹۷۰ء میں جو مقالے آئے تھے ان میں سے کسی کے انعام کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا۔استثنائی طور پر ایک احمدی نومسلم ڈاکٹر عبدالہادی صاحب کیوسی (وہ بڑے سکالر ہیں اس میں کوئی شک نہیں) انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر اسپر نٹو زبان میں کتاب لکھنے پر انعام دینے کا فیصلہ کیا گیا