خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 546 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 546

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۴۶ ۱۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار کے وعدہ جات بھی پورے کر کے بڑی ہمت اور بڑی قربانی کا مظاہرہ کیا۔اس وقت کے حالات کے لحاظ سے ہم نے یہ سمجھا کہ یہ بڑی قربانی ہے اور یقیناً بہت بڑی قربانی تھی۔چنانچہ فاؤنڈیشن کے لئے پاکستان اور بیرون پاکستان جو نقد عطیہ جمع ہوا ( عطیہ جات جمع کرنے کا کام الا ماشاء اللہ ختم ہو چکا ہے ) اور وہ بقدره ۳۰,۷۷٫۵۷ روپے تھا بعض دوستوں نے عطیہ کے طور پر کچھ جائیدادیں بھی فاؤنڈیشن کو دے دیں۔جن کی قیمت اندازاً ۳,۴۰,۰۰۰ ہے یہ کل ۳۴,۱۷,۵۷۰ روپے کی رقم بنتی ہے۔فضل عمر فاؤنڈیشن نے سوچا کہ رقم ۱۰ ہزار ہو یا ۳۴ لاکھ یا ۳۴ ارب ہو اگر سرمایہ خرچ کرنا شروع کر دیا جائے تو سال میں نہیں تو پانچ سال میں یا دس سال میں نہیں تو پچاس سال میں ختم ہو جائے گا اس واسطے انہوں نے یہ تجویز کیا کہ اس روپے کو تجارت پر لگا دیا جائے اور تجارت کریں اس دنیا کے ساتھ۔چنانچہ انہوں نے بعض کمپنیوں کے حصص خرید لئے اور یہ فیصلہ کیا کہ جو نفع ہو گا (یعنی Dividends جو تقسیم ہوتے ہیں ) اس نفع سے ہم خیر کے کام کریں گے چنانچہ ان سات سالوں میں دفتری رپورٹ کے مطابق ان کو ۸,۲۶,۸۲۰ روپے نفع کے طور پر آمد ہوئی۔یعنی ایک لاکھ پندرہ میں ہزار روپے سالانہ کے حساب سے آمد ہوئی اور چونکہ اصول یہ بتایا گیا تھا کہ سرمایہ خرچ نہیں ہو گا۔بلکہ آمد میں سے اس وقت تک انہوں نے جو خرچ کیا ہے۔وہ چار لاکھ اور کچھ ہزار کی رقم تو اس لائبریری کی عمارت اور فرنیچر پر خرچ کی گئی ہے جسے آپ جلسہ گاہ سے مسجد مبارک کی طرف جاتے ہوئے راستہ میں دیکھتے ہیں۔بڑی خوبصورت عمارت ہے گو مکمل بعد میں ہوئی تھی اور چھوٹی پہلے ہو گئی تھی۔اس واسطے اس کے افتتاح پر مجھے یہ اعلان کرنا پڑا کہ اس کے ساتھ ایک بہت بڑی دوسری لائبریری بنانے کا ابھی سے سوچ لو۔انشاء اللہ وہ بھی بن جائے گی اس کے علاوہ ان کی تجویز ہے جو ہائی ٹیکنیکس انسٹی ٹیوٹ کی طرز پر زرعی اور ٹیکنیکل ٹرینگ کلاسز کھولنے سے متعلق ہے۔یعنی یہ تعلیمی ادارہ نہیں لیکن اس کے لئے ابھی تک ان کو کوئی اور موزوں لفظ ملا نہیں جس سے ان کے ذہن میں جو منصوبہ ہے اس کو ظاہر کیا جا سکے۔اس لئے وہ ہائی ٹیکنیکس انسٹی ٹیوٹ کی طرز کا کوئی منصو بہ سوچ رہے ہیں۔ابھی وہ سوچ رہے ہیں اس لئے منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔جب وہ