خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 548
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۴۸ ۱۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار ہے۔فیصلہ استثنائی ہے۔انعام استثنائی نہیں۔کیونکہ وہ میرے نزدیک بھی اس کے مستحق ہیں۔پھر حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کی سوانح کی تیاری گو۶۷۔۱۹۶۶ ء سے شروع ہے لیکن اب ۱۹۷۲ء ختم ہو رہا ہے مگر ابھی تک وہ آخری شکل میں ہمارے سامنے نہیں آئی پہلے ملک سیف الرحمن صاحب نے ایک مسودہ ایک کمیٹی کے مشورہ کے ساتھ تیار کیا۔پھر فاؤنڈیشن نے کہا نہیں یہ بھی درست نہیں ہے اب یہ کام یہاں میاں طاہر احمد صاحب کے سپر د ہے کہ وہ اس کو از سر نو لکھیں یا ملک سیف الرحمن صاحب کے تیار کردہ مسودہ کی اصلاح کریں یا جیسے بھی مناسب ہو۔بہر حال یہ کتاب اس وقت تک چھپ جانی چاہئے تھی لیکن ابھی تک نہیں چھپ سکی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے عید الاضحیہ کے خطبات کو آخری شکل دی جارہی ہے۔یہ بھی انشاء اللہ کتابی صورت میں جلد شائع ہو جائیں گے۔میں نے فضل عمر فاؤنڈیشن اور اس کی کارکردگی کے ضمن میں ایک بات نمایاں کی ہے دوست اس کو ذہن میں رکھیں میں نے آپ کے سامنے یہ بات نمایاں کی ہے کہ فضل عمر فاؤنڈیشن کی نقد آمد ۳۰,۷۷٫۵۸۰ تھی اور اس کی انتظامیہ نے سوچا اور صحیح سوچا کہ سرمایہ کی بجائے سرمایہ کی آمد خرچ کرنی چاہئے۔اس لئے انہوں نے یہ سرمایہ مختلف کمپنیوں کے حصص میں لگا دیا اور ان کو اوسطاً ایک لاکھ پندرہ ہمیں ہزار روپے سالانہ کے حساب سے نفع ملا۔اس نفع کی مقدار نے خیرات اور نیکی کے کاموں کو محدود کر دیا۔کیونکہ جب نفع ہی سال میں اوسطاً لا کھ سوالا کھ آنا ہے تو وہ سال میں دس لاکھ روپے خرچ نہیں کر سکتے۔کیونکہ ان کے پاس پیسے ہی نہیں اس واسطے وہ خرچ کہاں سے کریں گے لیکن بعد میں ایک اور تجارت کی گئی جس کی شکل ہی کچھ اور ہے۔میں آگے چل کر اس پر روشنی ڈالوں گا۔دوست ان ہر دو تجارتوں کا جب اپنے ذہن میں موازنہ کریں گے تو بے اختیار ان کی زبان پر اللہ تعالیٰ کی حمد جاری ہو جائے گی۔نظارت اصلاح و ارشاد متعلقه وقف عارضی و تعلیم القرآن اس نظارت کے تحت جو کام ہو رہا ہے۔اس کے بعض حصوں کی طرف ہماری جماعت پوری تی