خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 477
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) CLL ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب طرف نازل ہوا اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں قرآن کریم کے ہر حکم پر عمل کر کے ایک حسین اسوہ بنی نوع کے ہاتھ میں دیا لیکن امریکہ کے رہنے والوں تک اُس وقت وہ آواز نہیں پہنچ سکتی تھی کیونکہ اس وقت ایسے وسائل اور ذرائع نہیں تھے لیکن وعدہ تھا کہ انسانیت کو ایک خاندان بنا دیا جائے گا۔ایک قوم بنا دیا جائے گا۔یہ دنیا ملت واحدہ بن جائے گی۔دوسرے تمام ادیان جو ہیں اُن کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ مٹ جائیں گے۔اُن کی ضرورت نہیں رہے گی۔جس طرح کھنڈرات ہوتے ہیں اس طرح شاید ان کے نشان باقی رہ جائیں گے۔شاید ہزاروں کی تعداد میں عیسائیت پر ایمان لانے والے باقی رہ جائیں یا ہزاروں کی تعداد میں یہودی باقی رہ جائیں یا ہندو یا دھریت پر دھر یہ قائم رہیں۔دھریت اگر چہ لامذہبیت کا نام ہے لیکن بہر حال ان کے کچھ اصول ہیں جن کے مطابق وہ اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ وعدہ نہیں تھا کہ بطور مذہب کے صرف اسلام باقی رہ جائے گا۔اگر محض یہ وعدہ ہوتا تو اس صورت میں بھی پورا ہو جاتا کہ اسلام کے علاوہ تمام مذاہب ختم ہو جاتے۔ان کا اثر و رسوخ قائم نہ رہتا لیکن دھریت قائم رہتی۔دھریت اس معنی میں تو مذہب نہیں ہے۔یہ وعدہ نہیں تھا۔یہ بشارت نہیں تھی بلکہ بشارت یہ تھی کہ اتنی بھاری اکثریت انسانوں کی جن میں امریکہ میں بسنے والے، افریقہ میں بسنے والے، یورپ میں بسنے والے، ایشیا میں بسنے والے، روس میں بسنے والے، چین میں بسنے والے، جاپان میں بسنے والے ، آسٹریلیا میں بسنے والے ، نیوزی لینڈ میں بسنے والے اور دیگر جزائر میں بسنے والے سارے شامل ہیں۔وہ عیسائی ہوں، یہودی ہوں، بد مذہب ہوں یا لامذہب دھریے ہوں ان سب کے متعلق یہ بشارت تھی کہ کسی عقیدے یا خیال یا مذ ہب یا اصول کا انسان یا گروہ یا جماعت جو اسلام کے مخالف ہے وہ باقی نہیں رہے گا۔کھنڈر باقی رہتے ہیں قلعہ تو باقی نہیں رہتا۔جو کھنڈر باقی ہوتا ہے اس کو شہر تو کہ سکتے ہیں آباد نہیں کہہ سکتے۔غرض نشان کے طور پر جہاں لوگوں کے لئے عبرت کا مقام بننے کے لئے کچھ نشان رہ جائیں گے سینکڑوں کے تعداد میں شاید ہزاروں کی تعداد میں ممکن ہے لاکھ ڈیڑھ دو لاکھ بھی ہوں مگر لاکھ ڈیڑھ دو لاکھ دنیا کی آبادی میں کوئی بڑی تعداد نہیں ہوتی۔پس یہ بشارت تھی نشاۃ اولیٰ میں جب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کومکمل کر کے