خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 476 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 476

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب تا کہ انسان اُن سے فائدہ اُٹھائے انسانیت انسانوں کے سرتاج اور انبیاء کے فخر ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے حسن واحسان کے جلوے دیکھنے کے قابل ہو جائے۔چونکہ حضرت نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے فیوض روحانیہ کسی ایک قوم کے لئے یا کسی ایک زمانے کے لئے نہیں تھے بلکہ تمام بنی نوع انسان نے آپ کے فیوض سے حصہ لینا تھا۔اس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بشر کی حیثیت سے تو آپ نے اس زمین پر ایک محدود وقت میں یہ زندگی گزاری۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار سے آپ کو ہم سے واپس لے لیا اور عرش پر اپنی دائیں جانب پوری عظمت اور جلال کے ساتھ بٹھا دیا کیونکہ آپ کے وجود میں اللہ تعالیٰ کی صفات، اس کی عظمت اور جلال کا کامل انعکاس تھا۔وہ جس کا تھا اُس کے پاس چلا گیا لیکن وہ جہاں بھی تھا اور جس کے لئے پیدا کیا گیا تھا یعنی انسانیت اس کو وہ کھولا نہیں، بلکہ ہر قوم تک ہر زمانے تک اس کی محبت اور اس کی رحمت کی موجیں جوش مارتی ہوئی پہنچیں اور انسان نے اُن سے فائدہ اُٹھایا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت بھی دی تھی کہ آپ کے ذریعہ تمام اقوام عالم تمام بنی نوع انسان وحدت اجتماعی کی شکل اختیار کریں گے اور ایک خاندان بن جائیں گے۔یہ دُنیامت واحدہ بن جائے گی۔پاکستان اور ہندوستان اور چین اور روس اور یورپ اور امریکہ اور جزائر کے رہنے والوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔مثلاً ایک خاندان کے افراد مختلف جگہوں پر رہتے ہیں مگر بوجہ اس کے کہ وہ مختلف جگہوں پر رہتے ہیں، وہ مختلف خاندان نہیں بن جاتے۔افراد تو وہ اسی ایک خاندان کے ہوتے ہیں۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتِ واحدہ کا وعدہ دیا گیا تھا لیکن آپ کی نشاۃ اولی میں، پہلے زمانہ میں، جو اسلام کی ترقی کا زمانہ تھا، اس میں ایسے اسباب ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے کہ تمام بنی نوع انسان ایک قوم بن جائے۔اس وقت نہ تار تھی ، نہ ڈاک تھی نہ کتب کے شائع ہونے کا انتظام تھا، نہ انسان چند گھنٹوں میں ساری دُنیا کا چکر لگا سکتا تھا۔اس واسطے اس زمانے کو ہمارے اسلامی لٹریچر نے ( یعنی ہمارے علماء اور اولیاء نے جو کتب لکھی ہیں اور آراء ظاہر کی ہیں،اس میں انہوں نے ) اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ آپ کا وہ زمانہ تکمیل ہدایت کا تھا۔قرآن کریم ایک رحمت اور شفاء کی حیثیت میں ، ایک کامل اور مکمل شریعت کا حامل بن کر دُنیا کی