خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 449 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 449

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۴۹ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار ہو جائے گا تو کہے گا کہ یہ نعمت خیراتی اور طفیلی نہیں ہے جو مجھ پر نازل ہوئی ہے۔یہ تو درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا جو اس نے قبول کیا۔لیکن جو جد و جہد اجتماعی کی گئی تھی اُس میں کچھ میں نے بھی کیا۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا جماعت کی جدو جہد کو قبول کر لیا اور انعام نازل کئے اور مجھ پر بھی جماعت کے ساتھ انعام نازل ہو گیا۔یا پھر ہم بچوں کو سناتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ جن بچوں کو ان کے گھروں میں دین کی باتیں کثرت سے سنائی جاتی ہیں وہ آٹھ آٹھ سال کے بچے بھی اچھے بھلے مولوی بن جاتے ہیں۔اب تو میں نہیں کہہ سکتا لیکن ہماری احمدیت کی تاریخ پر وہ وقت گذرا ہے جب بڑے بڑے مولوی کہا کرتے تھے کہ احمدی بچوں سے بات نہ کرو ان کے بچوں کو بھی ہم سے زیادہ آیتیں یاد ہیں۔میں نے سنایا تھا کہ عیسائی تو اب بھی بڑا ڈرتا ہے۔اس پر پورا اسی طرح کا اثر ہے۔غیر ملکوں میں جو ہمارے چھوٹے بچے ہیں، ان سے بات نہیں کرتا۔ان کو یہ ہدایت ہے خصوصاً کیتھولکس کو کہ احمدی بچے سے بھی بات نہیں کرنی کیونکہ وہ ایسی بات کر جائے گا جس کا تمہارے پاس جواب نہیں ہو گا اور وہ اثر قبول کرنے والا دماغ رکھتا ہے جو تم جواب دو گے ہمیشہ کے لئے اس کے دماغ پر یہ اثر چھوڑ دو گے کہ عیسائیت کے پاس صداقت اور حقانیت نہیں ہے۔پس کثرت سے پڑھنا چاہئے رسالوں اور اخباروں کو اور کثرت سے بچوں کے کانوں میں باتیں ڈالنی چاہئیں۔الفضل ہے، انصار اللہ ہے، الفرقان ہے، خالد ہے تفخیذ الا ذہان ہے ، ہفتہ وار لا ہور ہے اور بھی رسالے کچھ اس طرح نکلتے ہیں کہ نہ وہ کتاب ہوتی ہے نہ رسالہ یعنی ہوتا وہ منتقلی (Monthly) کے طریق پر ہے لیکن اس کی وہ شکل نہیں ہوتی جس طرح با قاعدگی کے ساتھ ماہانہ رسالے یا ہفتہ وار رسالے یا روزانہ کو نکالا جاتا ہے۔پانچویں مہینے شائع کر دیا سال بعد شائع کر دیا لیکن تسلسل اس کا قائم رہتا ہے۔جب ہم گورنمنٹ کالج میں پڑھا کرتے تھے ، وہ زمانہ بڑا ستا تھا۔ہم نے دس دوستوں کی ایک مجلس بنائی۔میں اور نو میرے ساتھیوں نے اپنے بچپنے میں اس کا نام رکھا عشرہ کاملہ“۔کامل تو آدمی کبھی بھی نہیں ہوتا لیکن بہر حال نام یہی رکھا اور ایک روپیہ ماہوار ہم اس میں چندہ دیتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی اقتباس لے کر دس روپے میں ایک ورقہ شائع : کرتے تھے اور سارے کالجوں کے طالبعلموں میں تقسیم کر دیتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم