خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 448
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۴۸ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار میں سرسری طور پر دیکھ سکا ہوں کیونکہ جلسہ کے کاموں کے دوران ہی یہ میرے پاس پہنچی تھی لیکن میں نے جو سرسری جائزہ لیا ہے اس سے مجھ پر یہ اثر ہے کہ بہت مفید کتاب ہے۔عورتوں کو خریدنی چاہئے۔کسی ایسے مرد کا تو اس کے ساتھ تعلق نہیں ہے جس کا کسی عورت کے ساتھ تعلق نہ ہو۔پس پہلے تو عورت ذمہ دار ہے اس کو خریدنے کی۔ہاں جس کی بیوی ہے وہ بیوی کی خاطر خریدے گا، جس کی ماں ہے وہ ماں کی خاطر خریدے گا اور جس کی بیٹی ہے وہ بیٹی کی خاطر خریدے گا۔پس براہ راست آپ کا تعلق نہیں لیکن جس گھر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوام بنایا ہے اس حیثیت۔آپ کا بھی تعلق ہے اور آپ کو دلچسپی لینی چاہئے نہیں کر سکتے یہ اپنی جگہ غلط ہے۔خطبات آتے ہیں تحریکیں آتی ہیں اور بہت کچھ آتا ہے جس سے بڑا فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔جماعت کے ہر فرد کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ جماعت ایک وجود ہے اور ہم اس کا ایک حصہ ہیں۔جب تک یہ احساس نہیں ہو گا اس وقت تک وہ شوق کے ساتھ وہ قربانیاں نہیں دیں سکیں گے جو اللہ تعالیٰ آج مانگ رہا ہے۔یہ احساس دو طرح پیدا ہوتا ہے۔یا کام کر کے پیدا ہوتا ہے یا جنہوں نے کام کیا ہو ان کے کارنامے سن کر۔اصل تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔میں تو ظاہری چیز لے رہا ہوں اس لئے اس کا ذکر نہیں کر رہا۔پس اللہ کا فضل ہی کرتا ہے لیکن جو ظاہری چیز ہمیں نظر آتی ہے یا کنٹری بیوشن (Contribution) ہو کہ میں نے بھی کچھ کیا ہے۔ہم نے دیکھا ہے ہم بچے تھے خدا کا فضل ہے اس وقت سے جماعتی کام ، جو عمر کے لحاظ سے ہوتے ہیں، کیا کرتے تھے۔قادیان میں سکھ بعض دفعہ بڑی شرارتیں کیا کرتے تھے۔اگر کبھی ان سے لڑائی وڑائی ہو جائے یعنی اگر کبھی وہ حملہ کر دیں تو اُن سے جا کر لڑا بھی کرتے تھے۔گویا جماعت کے ہر کام میں حصہ لیتے تھے۔اس طرح ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ نے تربیت کی۔میں نے دیکھا ہے کہ جتنے ہمارے اس قسم کے بڑے شوق سے حصہ لینے والے تھے۔میرے ساتھی ، دوست اور بھائی۔سارے احمدی بھائی ہی ہیں لیکن جو شوق سے حصہ لینے والے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو بعد میں بڑے بڑے کام کرنے کی توفیق دی۔پس یا تو آدمی خود کام کرے۔خدام الاحمدیہ کی اصل اور بنیادی غرض یہ ہے کہ نوجوان احمدی کو یہ تربیت حاصل ہو کہ وہ کچھ کرے اور یہ احساس پیدا ہو جائے کہ جماعت کی جن حقیر کوششوں کو اللہ تعالیٰ نے قبول کیا ان کوششوں میں میری کوشش کا بھی حصہ ہے۔یہ احساس پیدا