خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 450
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۵۰ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطاب سے جو آپ کو والہانہ عشق اور محبت تھی وہ ایک اقتباس لے لیا۔اس سے بڑے چڑتے تھے ہمارے مخالف کہ ہم تو شور مچا رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ان کے دلوں میں نہیں ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہمارے سامنے رکھ دی گئی ہے کہ اس سے زیادہ حسین اظہار ، اپنے احساسات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقامات کا کہیں نظر نہیں آرہا۔اس قسم کے بھی بعض نکلتے رہتے ہیں ان کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے لیکن جو کتب شائع ہوتی ہیں وہ تو بہت ضروری حصہ ہیں۔پھر غیروں کی کتب بھی پڑھنی چاہئیں ورنہ آپ کو کیسے پتہ لگے گا کہ جو دوسرے علوم ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کا خادم بنایا ہے۔آپ کو بھی پتہ لگے گا کہ وہ خادم ہیں جب آپ ان سے خدمت لینے لگ جائیں گے۔اگر آپ ان سے خدمت نہیں لیں گے تو وہ آپ کے خادم کیسے بنیں گے۔جب آپ ان سے خدمت لینے لگ جائیں گے تو دنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ مثلاً ہم نے تو یہ پہلو اس لئے ظاہر کئے تھے کہ شاید ہم اسلام پر وار کر سکیں۔لیکن انہوں نے الٹا اسی ہتھیار سے ہم پر وار کر دیا۔کاؤنٹر اٹیک (Counter Attack) کر دیا۔پھر وہ اسلام کے خلاف اس قسم کی اوٹ پٹانگ باتیں نہیں لکھیں گے۔اب لکھ رہے ہیں لیکن ہمیں کوئی خوف نہیں ہے۔خدا کا فضل ہے دنیا کا جو عالم جو مرضی کہے ہم دو باتوں میں سے ایک ثابت کر سکتے ہیں یا اس کی بات منظمندی اور فراست کی بات نہیں بلکہ حماقت اور ضلالت کی بات ہے یا یہ کہ جو سچی بات اس نے کی ہے وہ پہلے قرآن کریم میں موجود ہے۔قرآن سے باہر کوئی صداقت نہیں ہے اصولی طور پر اسی کی تفسیر ہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اتنی تفسیر کر دی ہے کہ اس کا تو کہنا کیا ہے۔پتہ نہیں کتنی صدیوں تک وہ ایک ہیں (Base) بن گئی ہے۔قرآن کریم کی آیت سے تفسیر کرنا اور قرآن کریم کی اللہ تعالیٰ کی سکھائی ہوئی ایک تفسیر کو سامنے رکھ کر ضرورت زمانہ کے مطابق پھر آگے تفسیر کرنا ، اب تو بڑی سہولت ہو گئی ہے۔وہ تو اگلوں کا کام ہے وہ کریں لیکن آج کا ہمارا کام یہ ہے کہ اس سے زیادہ سننے والے فائدہ اس لئے اٹھا ئیں کہ اسلام کی عظمت دنیا میں قائم ہو جائے ، اس لئے وہ فائدہ اٹھائیں کہ اللہ تعالیٰ کا جلال دنیا پر ظاہر ہو، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کے جلوے دنیا دیکھے۔اپنے لئے کچھ نہیں ہے۔ہم ہیں کیا اور ہماری قیمت کیا ہے اور ہماری ہستی کیا ہے؟ اور ہماری زندگی کیا ہے؟ وہ ابدی حیات لے کر اس دنیا کی طرف مبعوث ہوا تھا، دنیا کو