خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 436
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۳۶ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب برکتیں پاؤ۔خدا کرے کہ آپ اپنی کسی کمزوری کے نتیجہ میں اُن برکتوں سے محروم نہ ہو جائیں اور خدا کرے کہ آپ کے عمل اور آپ کا اخلاص اور آپ کی نیتیں ، خواہ وہ تھوڑی ہی کیوں نہ ہوں ، خواہ وہ کمزور ہی کیوں نہ ہوں، خواہ وہ داغدار ہی کیوں نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی چادر آپ کی کمزوریوں اور داغوں کو ڈھانک دے اور اس کی قبولیت کی رحمت آپ کو قبول کرلے اور آپ کو وہ سب کچھ مل جائے جس کی آپ کو بشارت دی گئی ہے۔پچھلے جلسہ سالانہ کی بات ہے یعنی ۴۸ ہجری شمسی کے لحاظ سے اور ۶۹ ء دوسرے کیلنڈر کے لحاظ سے جو جلسہ سالانہ تھا اُس میں ایک تقریر کے دوران میں میں نے یہ کہا تھا کہ سال رواں فسادات اور ہنگاموں سے شروع ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اُن کی بشارتوں کے مطابق اُس کی دی ہوئی ترقیات پر ختم ہو رہا ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔اس کے بعد کا ہمارا یہ سال جو ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے جو بشارتیں دی تھیں اُن کو کچھ اس رنگ میں پورا کیا ہے کہ ہمارے تو ذرے ذرے سے اُس کی حمد کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ہم اس کی حمد بیان نہیں کر سکتے۔میں نے شروع میں الحمد دو دفعہ خاص غرض سے پڑھا تھا لیکن بندہ کیا حمد کرے گا ہم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار نہیں کر سکتے۔انسانی زبان بے شمار حمد بیان کر ہی نہیں سکتی۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی حمد تو ہو ہی نہیں سکتی۔یہ تو خدا تعالیٰ کا فضل ہی ہے کہ وہ اپنے پیار کی گو میں بٹھا لیتا ہے۔مجموعی طور پر اللہ تعالیٰ نے ایک تو ہمیں غیر ممالک کے متعلق جو بشارتیں دی ہوئی تھیں وہ پوری ہوئیں اور افریقہ کے ٹور (tour) میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے عظیم پیار کے جلوے دیکھے۔دوسرے ہمارے اس ملک میں بھی آپ نے دیکھا کہ فسادات کے بعد کیا چیز نمودار ہوئی؟ خدا تعالیٰ کے وہ حسین جلوے نمودار ہوئے جنہوں نے ہمارے مخالفوں کوسٹن (stun) کر کے رکھ دیا ہے۔انہیں کوئی سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ کیا ہو گیا؟ اور اصولی طور پر یہ ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا ہونے والے وہ بچے جو ان ۲۳ سال میں جوان ہو کر ووٹ دینے کی عمر کو پہنچے تھے یعنی ووٹ دینے کے لحاظ سے جوان ہوئے تھے، وہ بچے یا جو کچھ عرصہ پہلے پیدا ہوئے تھے اور اِس ۲۳ سال میں جوان ہو کر ووٹ دینے کی عمر کو پہنچے تھے اللہ تعالیٰ نے