خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 435
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۳۵ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب دے اور وہ سارے جمع ہو کر خدا تعالی کی آواز کو خاموش کرنا چاہیں جو اس نے اپنے کسی بندے کے ذریعہ بلند کی ہو تو وہ خاموش نہیں کر سکتے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس جلسہ کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسا والہانہ عشق پیدا کیا جائے جو وفا کی چٹان پر کھڑا ہو اور جس میں کوئی لغزش نہ ہو۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اپنے حسن و احسان میں ایسا بے نظیر وجود ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اسے دیکھ کر عقلمندوں کی عقلیں حیران اور جو اپنے آپ کو صاحب فراست سمجھتے تھے ان کی فراستوں کو اپنی بے مائیگی کا اعلان کرنا پڑا۔ایک شخص جو آج سے چودہ سو سال پہلے پیدا ہوا۔صلی اللہ علیہ وسلم ، اُس نے پیچھے کی طرف نگاہ کی اور آدم کو اپنی رُوحانی قوت اور فیض سے حصہ دیا اور اُس نے آگے کی طرف نگاہ کی اور احمد جو آپ ہی کا ایک عظیم روحانی فرزند تھا اس کے وجود کو اور اس کے ماحول کو اس طرح منور کر دیا کہ میرے جیسا عا جز انسان جب افریقہ کے دورے پر گیا اور واپس آیا تو وہاں کے ایک پیرا ماؤنٹ چیف نے مجھے لکھا کہ آپ نے مجھ سے معانقہ کیا تھا جب لوگوں کو پتہ لگا کہ آپ نے مجھ سے معانقہ کیا ہے تو وہ میرے پاس آئے اور اُنہوں نے میرے جسم کے ساتھ اپنے جسم ملے اور میرے جسم کو چوما اور اس طرح انہوں نے برکت لینے کی کوشش کی۔لیکن میں تو جانتا ہوں کہ مجھ میں کوئی خوبی نہیں البتہ میں اس یقین پر بھی قائم ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو برکتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل لائے ہیں اُن کی کوئی مثال نہیں۔آپ کو جو بشارتیں اور وعدے دیئے گئے کہ جہاں تیرے کامل متبع رہیں گے اُن کے درو دیوار میں بھی برکت ڈال دی جائے گی یہاں تک کہ جس چیز کو وہ ہاتھ لگائیں گے اُس کو بھی با برکت بنادیا جائے گا۔وہ سچ ہیں۔یہ وعدے اور یہ بشارتیں ہمیں ملی ہیں ان وعدوں اور بشارتوں پر اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات پر کامل یقین پیدا کرنے کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک طرف حُسن کے اور دوسری طرف احسان کے جلوے دیکھنے کے لئے آپ لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں۔پس میری یہ دُعا ہے کہ جس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے کونے کونے میں یہ آواز دی تھی کہ میری طرف آؤ اور میرے سلسلہ میں داخل ہو جاؤ تا کہ تم