خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 434 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 434

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۳۴ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب پھیپھڑوں میں جاتے ہیں تو ہماری حیات اور بقا کا سامان پیدا کر دیتے ہیں کبھی اللہ تعالیٰ ایسا بھی کرتا ہے کہ پھیپھڑے کو کہتا ہے کہ ہوا سے بھلائی نہ لے۔کبھی اللہ تعالیٰ ہوا سے یہ کہتا ہے کہ پھیپھڑے میں تو طاقت ہے لیکن تو اسے طاقت نہ دے۔آخر ہر وفات پانے والا شخص اپنی چار پائی پر ہوا اسے سانس لے رہا ہے لیکن اس کی بقا کا سامان اُسے اس ہوا سے نہیں مل رہا۔پس ہر نعمت جو ہمیں ملتی ہے ہر برکت جو ہمیں حاصل ہوتی ہے ہر رحمت جس کے ہم وارث ہوتے ہیں ہر دنیوی آرام جسے ہماری خاطر پیدا کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حُسن واحسان کے جلوے ہیں۔کسی چیز میں اپنی ذاتی کوئی خوبی نہیں۔یہ سُورج جو اس وقت طلوع ہے یہ روشنی بھی دے رہا ہے اور یہ گرمی بھی پہنچا رہا ہے لیکن اس سورج میں ذاتی طور پر نہ گرمی ہے اور نہ روشنی ہے یہ تو خدا تعالیٰ کی روشنی کا ایک انعکاس اور خدا تعالیٰ جو اپنی مخلوق سے پیار کرتا ہے اس کے پیار کی گرمی کا ایک جلوہ ہے جو سورج کے ذریعہ ہمیں مل رہا ہے۔یہ اللہ ہے جو اسلام ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور یہ اللہ ہے جس پر ہر احمدی کو ایمان لانا چاہیئے اور اکثر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق ایمان لاتے ہیں۔دیکھو! اسی سال سے ساری دُنیا اکٹھی ہو کر ہماری مخالفت پر تکی ہوئی ہے۔میں نے افریقہ میں بھی یہ کہا تھا کہ اسی سال ہوئے خدا تعالیٰ کے حکم سے اور اس کی تو حید کو قائم کرنے کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں کے مطابق آپ کے حُسن کے جلوے دکھانے کے لئے اکیلی آواز اُٹھائی گئی تھی۔جب وہ اکیلی آواز ایک چھوٹے سے غیر معروف گاؤں سے بلند ہوئی تو اس کے بعد اس آواز کو خاموش کرنے کے لئے ساری دُنیا اکٹھی ہوگئی مگر ساری دُنیا کی طاقتیں اکٹھی ہو کر بھی اس آواز کو خاموش نہیں کر سکیں۔اور پھر میں نے افریقہ والوں سے یہ بھی کہا کہ آج میں افریقہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے جو ترانے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی جو آوازیں سُن رہا ہوں وہ اس اکیلی آواز ہی کی ایک گونج اور بازگشت ہے جو میرے کانوں میں پڑ رہی ہے۔غرض یہ زمین و آسمان تو کیا اگر اللہ تعالیٰ ایسے ہی اربوں زمین و آسمان پیدا کر دے اور وہ ایسا کرنے پر قادر بھی ہے اور ایسا کرتا بھی رہتا ہے ) جن میں اسی قسم کی آبادیاں پیدا کر