خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 423
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۲۳ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب ولطائف علم الہی ہیں جن کی اس دنیا میں تکمیل نفس کے لئے ضرورت ہے ایسا ہی جس قدر نفسِ امارہ کی بیماریاں اور اس کے جذبات اور اس کی دوری یا دائمی آفات ہیں یا جو کچھ اُن کا علاج اور اصلاح کی تدبیریں ہیں اور جس قدر تزکیہ وتصفیہ نفس کے طریق ہیں اور جس قدر اخلاق فاضلہ کے انتہائی ظہور کی علامات وخواص ولوازم ہیں یہ سب کچھ باستيفائے تام فرقان مجید میں بھرا ہوا ہے اور کوئی شخص ایسی صداقت یا ایسا نکتہ الہیہ یا ایسا طریق وصول الی اللہ یا کوئی ایسا نادر یا پاک طور مجاہدہ و پرستش الہی کا نکال نہیں سکتا جو اس کلام میں درج نہ ہو۔“ (سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحه ۴ ۷ ح) غرض ساری ہدا یتیں اس میں درج ہو گئیں اس بات کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے کہ اب پچھلی کتب سماویہ کی ضرورت نہیں رہی اور اس بات کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے کہ وہ خدا کے پاک انبیاء پر نازل ہوئی تھیں۔ان کتابوں کے اندر جو گندی باتیں انسان نے ملا دی تھیں ان سے بھی ان کو بری قرار دیا اور ان کے ماننے والوں کو کہنا کہ اصل میں جو کتاب تمہیں دی گئی تھی اس کی طرف بھی ہم تمہیں بلاتے ہیں اور وہ قرآن کریم میں ہے تمہاری اپنی کتاب میں نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو شریعت دی گئی تھی اور آپ کو جو ابدی صداقت عطاء ہوئی تھی وہ ابدی صداقت قرآن کریم میں ہے۔اس لئے اہل کتاب کو کہا تو رات کو مانو اور اس میں تم نے اپنے ہاتھوں سے جو دجل ملا دیا ہے اور گند داخل کر دیا ہے اس کو چھوڑ دو تم نجات پاؤ گے اور پھر تمہیں اور انعام ملے گا۔مزید صداقتیں تمہارے ہاتھ میں دی جائیں گی اور تم اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں زیادہ سہولت کے ساتھ زیادہ تیزی کے ساتھ زیادہ روحانی رفعتوں تک پہنچنے کے لئے تم اختیار کر سکو گے۔اس نکتہ کی چوتھی شق یہ ہے کہ قرآن کریم کی اللہ تعالیٰ نے یہ عظمت بتائی ہے کہ پہلی تمام شرائع قرآن کریم کا ایک حصہ تھیں اور یہ بات ایک اور زاویہ نگاہ سے ہے اور پہلی امتوں کو جس چیز کی وقتی ضرورت تھی وہ قرآن کریم نے افاضہ روحانی سے انہیں عطا کر دی اور صرف وہی ہدایت عطا کی اور اس طرح ماقبل کی سب شریعتیں قرآن عظیم کا ایک حصہ اور سارے انبیاء خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل تھے۔حقیقت یہ ہے کہ تمام بزرگ شارع انبیاء قرآن عظیم ہی کے ایک حصہ پر عمل کرنے کے لئے مبعوث کئے گئے تھے اور کوئی مستقل شریعت اس معنی میں وہ لانے والے