خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 424 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 424

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۲۴ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب نہیں تھے کہ قرآن کریم سے زائدان کے پاس کچھ ہو تو میں نے بعض دوسری جگہوں میں بھی اس طرف اشارہ کیا ہے اس کی وضاحت قرآن کریم نے ان آیات میں کی ہے۔الَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَبِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَبِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُمْ وَهُمْ مُّعْرِضُونَ (آل عمران : ۲۴) الَمُ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتُبِ يَشْتَرُونَ الضَّلُلَةَ وَيُرِيدُونَ أَنْ تَضِلُّوا السَّبِيْلَ (النِّسَاء : ۴۵) أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَبِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِيْنَ امَنُوْا سَبِيلًا (النساء:۵۲) ان آیات میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ وہ اقوام جنہیں قرآن عظیم کا ایک حصہ ہی وقتی ضرورت کو پورا کرنے اور ناقص قوتوں اور استعدادوں کی مناسب نشو و نما کے لئے دیا گیا تھا ان کی حالت یہ ہے کہ وہ ا۔اپنی جہالت اور اللہ سے بعد کی وجہ سے کتاب کامل کے ایک ٹکڑے پر ناز کرتے اور کتاب کامل سے اعراض کرتے ہیں یعنی یہ ایک بڑی غیر معقول بات ہے کہ دیا تو گیا تھا انہیں قرآن کامل کا ایک حصہ اور ان کی حالت یہ ہے کہ کتاب کامل کے ایک ٹکڑے یعنی اپنی کتاب پر ناز کرتے ہیں اور اس کامل کتاب سے وہ اعراض کرتے ہیں۔دوسرے ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ کتاب کامل کا جو حصہ ان کو دیا گیا تھا اس میں ضلالت کی جو باتیں خود انہوں نے اپنی طرف سے دجل کر کے ملالی ہیں ان سے ہدایت کے اس حصہ کی نسبت زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں اسے ترجیح دیتے ہیں اور اسے اختیار کرتے ہیں جو اس کے مقابلہ میں اصل کتاب ہے اور تم سے بھی یہی امید رکھتے ہیں کہ تم بھی صداقت کا ملہ حقہ کو چھوڑ کر شیطانی وساوس اور انسانی بناوٹ کو اختیار کرو جو بناوٹ انہوں نے اپنی کتاب کے متعلق کی ہے۔تیسرے ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی حالت یہ ہے کہ شیطانی وسوسہ اندازی اور نفس امارہ کی آواز جو کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے اور بے فائدہ ہیں اور حد سے بڑھنے والوں کی