خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 422
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۲۲ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب نازل ہوئی تھی لیکن اس میں تو مثلاً نیوگ جیسی لعنت پائی جاتی ہے۔غرض وہ پہلی کتاب سے لے کر آخری کتاب تک اور پہلے نبی سے لے کر آخری نبی تک نام لے لے کر عملاً اعتراض کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم کہتے ہو کہ یہ خدا کے برگزیدہ نبی ہیں اور یہ وہ کتا بیں ہیں جن کے متعلق تم کہتے ہو کہ یہ خدا تعالیٰ نے نازل کی ہیں لیکن ان میں یہ گند پایا جاتا ہے اس لئے اللہ ہی کوئی نہیں تم نے سب فراڈ بنایا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بھی حفاظت کی اور کتابوں کی بھی حفاظت کی۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذریعہ شیطان کو کہلوایا کہ تجھے وید میں گند نظر آ رہا ہے اور تجھے یہ گند تیری طبیعت کے مطابق نظر آ رہا ہے لیکن ہمیں وید میں بہت سی صداقتیں نظر آ رہی ہیں ہمیں اللہ تعالیٰ نے آنکھ ہی ایسی دی ہے کہ ہم صداقت کو دیکھ سکتے ہیں۔غرض حضرت آدم علیہ السلام کو جو صداقت دی گئی تھی وہ صداقت قرآن کریم میں بھی پائی جاتی ہے اسی طرح جو صداقتیں بعد کے انبیاء کو دی گئیں وہ بھی قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں اور قرآن کریم اپنی صداقت کے ثبوت کے لئے صرف عقلی دلائل کا محتاج نہیں بلکہ وہ اپنے ساتھ آسمانی نشانات رکھتا ہے جن کا تو اے شیطان ! مقابلہ نہیں کر سکتا اور جس شہادت کا تو مقابلہ نہیں کرسکتا اور جس شہادت کو تو تو ڑ نہیں سکتا وہ شہادت ہے اس بات پر کہ آدم سچا تھا وہ شہادت ہے اس بات پر کہ نوح سچا تھا وہ شہادت ہے اس بات پر کہ موسیٰ سچا تھا اور عیسی سچا تھا اور دوسرے تمام انبیاء بچے تھے اور یہ شہادت ہے اس بات پر کہ ان کی کتابوں میں جو صداقتیں تھیں وہ قرآن کریم نے لے لی ہیں اور اس حد تک وہ کتابیں صداقتوں کی حامل تھیں۔سچی کتابیں تھیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں اس لئے تیرا واراے شیطان تیرے اپنے ہی پیدا کردہ ایک ٹارگٹ پر ہو رہا ہے لیکن خدا اور اس کے بندوں پر تیر اوار کامیاب نہیں۔تو دیکھو یہ کتنا بڑا احسان ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی کتب سماویہ پر بھی کیا کہ ان سب کو تہمتوں سے بری قرار دیا اور اس کا بڑی شان کے ساتھ اعلان کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس حصہ کے متعلق کہ قرآن کریم ایک کامل اور مکمل کتاب ہے اور ہمیں کسی چیز کے حاصل کرنے کے لئے قرآن کریم سے باہر جانے کی ضرورت نہیں یہ فرمایا کہ۔جس قدر معارف عالیہ دین اور اس کی پاک صداقتیں ہیں اور جس قدر نکات