خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 399 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 399

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۹۹ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب سب سے آخر میں اور سب سے بلند محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو پایا۔آپ آخری نبی بھی ہیں اور افضل الرسل ہیں آپ سب کچھ ہیں۔اب دیکھیں وہ سامنے ایک پہاڑی ہے اس کی بلندی پر ایک آدمی کھڑا ہے اگر اس پہاڑی کے گرد ایک ہزار آدمی دائرہ بنائے تو ان میں سے جو بھی اور جس زاویہ سے بھی دیکھے گا اسے سب کی بلندی کے اوپر یہ آدمی نظر آ جائے گا ہو سکتا ہے کہ اب بھی اس پہاڑی پر کوئی آدمی ہو لیکن یہاں سے وہ نظر نہیں آتا غرض روحانی دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوس الوہیت کے وتر کے وسط سے روحانی بلندی کو حاصل کرنا شروع کیا اور کرتے کرتے کرتے انتہا کو یعنی الوہیت کے سمندر کے کنارے پر پہنچے اور یہ تمثیلی زبان ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کے ہاتھ سے پکڑا اور اپنے عرش پر بٹھا لیا اور اس طرح سب سے آخری مقام بھی آپ کا بن گیا اور سب سے بلند مقام بھی آپ کا بن گیا سب سے اعلیٰ مقام بھی آپ کا بن گیا اور سب سے بڑھ کر اور سب سے افضل مقام بھی آپ کا بن گیا۔غرض جس زاویہ سے بھی دیکھیں اور جس نقطہ نگاہ سے بھی دیکھیں سب سے آخر میں اور سب سے اعلیٰ آپ ہی ہیں۔اس طرح پہ آپ اللہ کے اور اس کی تمام صفات حسنہ کے مظہر اتم بن گئے اور آپ کی اس حیثیت میں مخلوق نے جو بھی حاصل کیا وہ آپ کے طفیل حاصل کیا لیکن نظر ہمیں یہ آتا ہے کہ اس وتر کے اوپر حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ہیں آدھ انچ کے فاصلے پر یا یہ کہنا چاہئے کہ اگر مثلاً وہ دائرہ سات انچ کا ہے تو دو انچ کے فاصلہ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نظر آتے ہیں کیونکہ وہ چھٹے آسمان پر پہنچے ہیں اور ایک انچ کے فاصلہ پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نظر آتے ہیں کیونکہ وہ ساتویں آسمان پر پہنچے ہیں۔پھر اس وتر کے تین انچ کے فاصلہ پر حضرت ہارون علیہ السلام نظر آتے ہیں کیونکہ آپ پانچویں آسمان پر پہنچے ہیں اور پانچ انچ کے فاصلہ پر ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام نظر آتے ہیں کیونکہ آپ دوسرے آسمان پر پہنچے ہیں اس طرح دوسرے اولیاء اور انبیاء ( بنی اسرائیل میں تو بے شمارے انبیاء آئے ہیں ) کا مقام اس وتر پر بے شمار نقطوں میں ہے۔معراج کی سیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر پچھلوں میں سے جو نبی نظر آیا وہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ہیں آپ نے ان کو ساتویں آسمان پر دیکھا اس سے زیادہ قرب تو ہو نہیں سکتا۔آپ عرش پر ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ساتویں آسمان پر ہیں جس کو انگریزی زبان میں نیکسٹ ٹو ہم (next to him ) کہا جا سکتا ہے اور بعد میں آنے والوں میں سے