خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 398 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 398

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۹۸ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے وہ ایک دو تین چار پانچ یا دس صفات کے مظہر ہیں جو اللہ کا مظہر ہے اس کی تفصیل یوں ہے کہ وہ تمام صفات باری اس وتر پر نقطوں کی شکل میں پھیلی ہوئی ہیں اور ایک لائن میں بے شمار نقطے ہوتے ہیں اور حساب کا غالباً یہ قاعدہ ہے کہ وہ نقطہ کو کوئی جگہ نہیں دیتا اور اس لائن میں جو قوسین کے درمیان وتر کے طور پر ہے اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات کو نقطوں کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔اب جو وجود اللہ تعالیٰ کا مظہر ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات اور پھر ان صفات کے جلوؤں کا مظہر ہو گا اور اس کی شکل اس طرح بن جائے گی کہ اس کی روحانیت نے وتر کے مرکزی نقطہ سے حرکت کی اور ان تمام تشبیہی صفات کے جلوؤں کو جو اس کا ئنات سے تعلق رکھتی ہیں اپنی مظہر بیت میں سمیٹ لیا۔اس لائن کے دائیں اور بائیں جو بے شمار نقطے ہیں ان کے اوپر اللہ تعالیٰ کے دوسرے انبیاء ہیں ان انبیاء میں کوئی ایک صفت کا مظہر ہے کوئی دوصفات کا مظہر ہے کوئی پانچ صفات کا مظہر ہے اور کوئی دس صفات کا مظہر ہے۔اس کے علاوہ یوں ہوا کہ یہ مرکزی نقطہ بحر الوہیت میں غرق ہوا اور اس نے اوپر کی قوس کی طرف بڑھنا شروع کیا اور چونکہ یہ مرکزی نقطہ ہے اس لئے وہ سب سے بلند رفعت کو حاصل کر سکتا ہے۔اس وتر کا کوئی اور نقطہ اگر عمودی خط کے ذریعہ کمان کے اوپر کے حصہ سے ملایا جائے تو وہ انتہائی ارتفاع کا نقطہ نہیں ہو گا بلکہ جتنا جتنا وہ کمان کے کناروں کی طرف چلتا چلا جائے گا اس کی رفعت کم ہوتی جائے گی اور سب سے زیادہ رفعت اور بلندی اس خط کی ہے جو وتر کے وسطی نقطہ سے اوپر کی طرف کھینچا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو اس مثال میں بیان کیا جاسکتا ہے کہ گویا آپ کی حقیقت وتر کے وسطی نقطہ کی ہے جہاں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے روحانی بلندیوں کو حاصل کرنا شروع کیا اور رفعتوں پر بلند ہوتے ہوتے بلند تر مقام پر پہنچے اور وہاں سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہاتھ سے پکڑا اور عرش پر اپنے دائیں طرف بٹھالہ یہ ایک حرکت ہے۔میں نے سوچا کہ اس مرکزی نقطہ سے چار حرکتیں حقیقت محمدیہ میں پیدا ہوئیں۔ایک حرکت ارتفاع کی طرف ہوئی اور اس نے آپ کو سب سے بلند کر دیا اور یہ مقام ختم نبوت ہے کہ پہلوں نے بھی اور بعد میں آنے والوں نے بھی جب بھی اور جس زاویہ سے بھی رفعتوں کی طرف دیکھا