خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 400
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۰۰ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب جو نبی آپ کے قریب تر نظر آئے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور یہ ہر دو نبی غیر تشریعی نبی ہیں اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایک غیر تشریعی نبی تشریعی نبی موسیٰ سے اوپر کیسے نکل گیا کیونکہ وہ اسی طرح اوپر نکل گیا جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت موسیٰ سے اوپر نکل گئے بہر حال یہ عجیب مماثلت ہے جو معراج کی رات میں ہمیں نظر آتی ہے۔معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سا تو میں آسمان پر دیکھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ساتو میں آسمان پر نہیں دیکھا بلکہ انہیں آپ نے چھٹے آسمان پر دیکھا اور بعد میں آنے والوں میں سے آپ نے صرف ایک کو اس قدر قابل احترام اور قابل عزت پایا اور اپنی محبت کے قابل پایا کہ ساری امت کے اولیاء کو چھوڑ کر آپ نے اس ایک کے متعلق فرمایا کہ اگر تمہیں ملے تو اسے میری طرف سے سلام پہنچا دینا۔اور دوسری حرکت روحانی جو دو پہلوؤں میں ہے وہ وتر سے یعنی مرکزی نقطہ سے عین اوپر دائیں اور بائیں حرکت ہے۔میرے ذہن میں آیا ہے کہ دائیں طرف جو حرکت ہے وہ اپنے زمانے سے پہلے کی طرف حرکت ہے اور وہاں حضرت آدم علیہ السلام آخر میں آگئے ہیں اور جو بائیں طرف حرکت ہے وہ بعد کے زمانہ کی حرکت ہے اور اس کے آخر میں وہ آدم ہیں جو بعد میں پیدا ہوئے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ایک آدم ہیں ایک اور معنی کے لحاظ سے۔اس میں کنفیوژن (Confusion) نہیں پیدا کرنا چاہئے لیکن بعض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی طور پر قریب تر ہونے کی وجہ سے اور آپ کے روحانی فرزندوں میں سے عظیم تر فرزند ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مماثلت رکھتے ہیں جیسے فرمایا:۔نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار ( در شین صفحه ۱۳۱) اور اس کا تو یہ مطلب ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جلوہ بھی ہے کیونکہ جو ساتویں آسمان پر ہے اسے چھٹے آسمان کی رفعتیں بہر حال حاصل ہیں کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ کسی کو چھٹے آسمان کی رفعت ہی نہ ملے اور وہ ساتویں آسمان پر جا پہنچے یہ تو بالکل