خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 393
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۹۳ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب کی ذات کو مرکزی نقطہ بنایا گیا۔پھر اس مرکزی نقطہ کے فیوض کے حصول کے لئے بنی نوع انسان کو پیدا کیا اور ان کو جسمانی اور ذہنی اور اخلاقی اور روحانی تربیت کے لئے یہ تمام مخلوق پیدا کر دی جو زمین کے اندر سے لے کر اس دنیا کے مادی آسمانوں کے آخر تک ہمیں نظر آ رہی ہے۔میں نے بتایا تھا کہ یہ حقیقت ایک رنگ میں پہلے انبیاء پر بھی ظاہر کی گئی یہ حقیقت کہ مقصود کا ئنات محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وجود پیدا کرنا منشاء الہی نہ ہوتا اور اگر عالم قضاء و قدر میں اللہ رب العالمین اس وجود کو پیدا کرنے کا منصوبہ نہ بنادیتا تو یہ عالم اور یہ کا ئنات پیدا ہی کوئی نہ ہوتی مخلوق ہی نہ ہوتی، نہ شجر ہوتے نہ حجر نہ زمین ہوتی نہ آسمان نہ انسان ہوتا، نہ حیوان ہوتا، غرض یہ وجود پیدا نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ ہوتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ بغیر مقصد کے لغو طور پر کوئی فعل نہیں کر سکتا کیونکہ یہ نقص ہے اور اللہ کہتے ہی اسے ہیں جو ہر قسم کے نقائص سے پاک ہو اور پہلے انبیاء کو بتایا گیا تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا میں سے جتنا حصہ بھی لیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے لیا اور آپ سے علیحدہ ہو کر کوئی شخص بھی اللہ تعالیٰ کا قرب اس کی برکات اس کے فیوض اور اس کی رحمتیں حاصل نہیں کر سکتا چنا نچہ تمام انبیاء نے اس کا اظہار بھی کیا۔جب ہم تاریخ انبیاء پر غور کرتے ہیں تو یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے اور ہمیں نظر آتا ہے کہ آدم اور نوح علیہما السلام اللہ تعالیٰ کے بزرگ نبی تھے لیکن انہوں نے جو یہ خصوصیات اپنے اندر پیدا کیں کہ وہ بعض صفات باری کے مظہر بنے تو صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کیا۔ہر نبی اللہ تعالیٰ کا مظہر اتم نہیں تھا بلکہ ہر نبی صفات باری میں سے بعض کا مظہر تھا تمام صفات باری کا مظہر نہیں تھا۔اس لئے ان کی تعلیموں میں ہمیں فرق نظر آتا ہے یعنی ایک نبی ہمیں ایسا نظر آتا ہے جو ذ والانتقام ربّ العالمین کا مظہر ہے وہ انتقام پر زور دیتا ہے اور دوسرا نبی ہمیں ایسا نظر آتا ہے جو خدا تعالیٰ کی صفت غفور کا مظہر ہے وہ صرف یہ کہتا ہے کہ لوگوں کو معاف کرتے چلے جاؤ لیکن پہلے انبیاء میں سے اور بعد میں آنے والے اولیاء اور مقربین میں سے سوائے دو وجودوں کے ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب نظر نہیں آتا اور ممکن ہے کہ اس کے متعلق بعد میں میں کسی جگہ اشارہ کروں۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی بعض صفات باری کے مظہر تھے وہ سب صفات باری کے مظہر نہیں تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی