خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 394
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۹۴ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب استعداد اور ان کی قوم کی ضرورت کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اضافی طور پر ایک ناقص مظہریت عطا کی وہ بعض صفات باری کے مظہر بنے اور اس لئے مظہر بنے کہ انہوں نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے روحانی فیوض سے نوازا اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے فیوض کو حاصل کرنے کا اور کوئی نظریہ نہیں ہے۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی بعض صفات باری کے مظہر بنے اور ایک بزرگ شریعت بنی اسرائیل کی طرف لے کر آئے۔وہ اس شریعت کے اضافی نقص کا علم رکھتے تھے اور آپ کے دل میں یہ شدید تڑپ تھی کہ آپ اپنے آقا اور ہادی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل جلوہ دیکھیں۔ضعف استعداد کی وجہ سے آپ کی یہ خواہش تو پوری نہ ہو سکی لیکن اس تڑپ کا آپ نے اظہار کر دیا کہ آنے والے عظیم مظہر خدا کی دنیا کو آپ نے بشارت دی اور اس اقرار کا اعلان کیا کہ اپنی عظمت جلالی اور مظہریت کے کمال میں آنے والے کو ظلی طور پر خدا کے نام سے پکارا جانا بھی عین مناسب ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو پہچانتے ہوئے اور اس حقیقت کا عرفان رکھتے ہوئے کہ جو پایا سومحمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی پایا۔بنی اسرائیل کے دیگر انبیاء نے بھی استعارہ کے طور پر صاحب مقام ہذا کے ظہور کو خدا تعالیٰ کا ظہور قرار دیا اور اس کا آنا خدا تعالیٰ کا آنا ٹھہرایا مثلاً داؤد علیہ السلام نے دنیا میں یہ اعلان کیا کہ ”اے خدا تیرا تخت ابد الآباد ہے تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے۔تو نے صدق سے دوستی اور شر سے دشمنی کی ہے اس لئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطر کیا ہے۔“ (زبور باب ۴۵ آیت ۷،۶ ) یعنی تمام انبیاء علیہ السلام سے زیادہ تو نے خدا تعالیٰ کے قرب اور خدا تعالیٰ کی رضا اور خدا تعالیٰ کی محبت کو پایا ہے۔یسعیاہ نبی نے دنیا میں یہ ندا بلند کی۔وہ نہ گھٹے گا نہ تھکے گا جب تک کہ راستی کو زمین پر قائم نہ کرلے اور جزیرے اس کی شریعت کے منتظر ہوں گے۔خداوند خدا ایک بہادر کی مانند نکلے گا۔“ (یسعیاہ باب ۴۲ آیت ۱۳۵،۴) اس آیت میں آنے والے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کے نام سے ظلمی طور پر پکارا گیا ہے۔