خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 392 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 392

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۹۲ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب ایک مقصد ہے ایک غرض ہے جس کی وجہ سے دنیا کی ہر شے چیونٹی سے لے کر ستاروں کے خاندانوں تک غرض کوئی چیز بھی ایسی نہیں کہ جو اس مقصد کے حصول میں مفید اور معاون نہ ہو۔یہ بات ہمیں اس طرح بھی اور زیادہ سمجھ آسکتی ہے کہ حقیقت یہ ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ دنیا کی ہر ھئے اپنی حقیقت رکھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے بعض جلوے اس کے حکم سے وہ شکل اختیار کر لیتے ہیں اگر اس مادی دنیا کی اشیاء کی حقیقت اور اصلیت یہ ہو تو پھر ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی بعض صفات کو اپنے ارادہ اور حکم سے خاص شکلیں بھی دے اور اس فعل کا کوئی مقصد بھی نہ ہو۔ہر چیز جو پیدا کی گئی ہے اور مجموعی طور پر تمام اشیاء اور یہ کائنات ان کے پیچھے ایک مقصد ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ ایک ایسی نوع پیدا کی جائے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کی مظہر بننے کی قابلیت اور اہلیت رکھتی ہو کیونکہ انسان کی فطرت میں یہ رکھا ہے کہ دلیل کے ساتھ اگر نمونہ نہ ہو تو وہ دلیل مؤثر نہیں ہوتی۔بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ کی مختلف صفات کا مظہر بنانے کے لئے کسی نمونہ کی ضرورت ہے اور وہ نمونہ کامل اور مکمل ہونا چاہئے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں احد “ ہوں۔فرمایا قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ (الاخلاص :۲) میرا کوئی مثل و مانند نہیں ہے حقیقی معنی میں میرے جیسا کوئی اور نہیں ہے۔میں اکیلا منفرد اور یکتا ہوں بہر حال اللہ تعالیٰ جیسا کوئی نہیں لیکن اس کی مشیت نے یہ چاہا کہ ظلیت میں ایک وجود کو اپنی تمام صفات کا مظہر اتم بنادے یعنی اللہ اللہ کا مظہر بنادے۔اللہ کے معنی ہیں وہ ذات جو تمام صفات حسنہ سے متصف اور ہر قسم کے عیوب اور نقائص سے منزہ ہے۔گو یا اللہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور پھر اس کی بے شمار صفات ہیں اور ان صفات کے بے شمار جلوے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اس کی اس عالمین سے تعلق رکھنے والی جو صفات کے جلوے ہیں ان صفات اور ان جلوؤں کا ایک مظہر بنائے اور وہ مظہر ظلی طور پر خدا کہلائے۔وہ خدا تو نہیں ہو گا لیکن اسے خدا سے اتنی شدید موافقت اور مماثلت ہوگی کہ پہلے انبیاء اس کے آنے کو خدا کا آنا اور اس کے ظہور کو خدا کا ظہور قرار دیں گے۔چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم قضاء و قدر میں پیدا کیا گیا اور اس مرکزی نقطہ کے گرد عالم کا ئنات کی پیدائش کا منصور بنایا گیا عالم قضاء و قدر میں منصوبہ بنایا جاتا ہے۔پس عالم قضاء وقدر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم