خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 391 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 391

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۹۱ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام مرکزی نقطہ ہے اور یہی حقیقت محمدیہ ہے اختتامی خطاب جلسه سالا نه فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی:۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ذُومِرَّةٍ فَاسْتَوَى وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلى عَبْدِهِ ما أوحى (النجم : ۴ تا ۱۱) پھر حضور انور نے فرمایا:۔اصل مضمون شروع کرنے سے قبل میں دو باتیں دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں ایک تو یہ کہ اگلے ماہ کی یکم تاریخ سے وقف جدید کا سالِ نو شروع ہو رہا ہے۔دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اس نئے سال میں آپ کو اور ہمیں پہلے سب سالوں کی نسبت قربانیوں اور ایثار کی زیادہ تو فیق عطا کرے اور انہیں قبول کرتے ہوئے ہمیں بہتر اور احسن ثمرات عطا کرے اور وہ ہمارے نصیب میں کرے۔دوسرے یہ کہ وقف جدید کے لئے بہت سے نئے معلمین کی ضرورت ہے جو کلاس اگلے ماہ شروع ہو رہی ہے ابھی تک اس کے لئے بہت کم نام دفتر میں پہنچے ہیں۔دوست اس طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کلاس میں پچاس اور سو کے درمیان واقفین ہونے چاہئیں ورنہ ہم اپنی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکیں گے۔ہم اپنی ذمہ داریوں کو نباہ نہیں سکیں گے۔دوست اس طرف متوجہ ہوں اور اہل اور قابل معلم وقف جدید کے نظام کے لئے جلد سے جلد مہیا کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو جزاء دے۔گذشتہ سال میں نے یہ مضمون بیان کیا تھا کہ اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ اس ساری کائنات کو ایک کھیل کے طور پر بلا مقصد اور بلا غرض پیدا نہیں کیا گیا۔جو کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے۔اس کے پیچھے