خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 250
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۵۰ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب افراد جو دونوں ہاتھوں میں قرآن کریم کے انوار تھا مے دنیا کے ملک ملک میں پہنچیں گے۔وہ ان کو صرف قرآنی دلائل ہی نہیں پہنچائیں گے بلکہ اپنے بہترین نمونہ سے ان کو متاثر کریں گے اور اسلام کی طرف انہیں کھینچیں گے۔آٹھویں صفت جو جماعت کے اندر پختہ طور پر پیدا ہو جانی چاہئے وہ رضا کارانہ خدمت کی روح ہے۔قرآن کریم اپنے پہلے غلبہ کے دور میں تو شاید ایک نمونہ تک ( کچھ عرصہ تک ) سو فیصدی رضا کارانہ خدمت سے کام لے رہا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قربانی لی۔مثلاً مکہ سے ہجرت ہوئی۔صحابہ اپنے سارے اموال اور ساری غیر منقولہ جائیداد میں مکہ میں ہی چھوڑ آئے تھے۔مدینہ آ کر انہوں نے ایک دھیلہ کا مطالبہ نہیں کیا۔جب مدینہ والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کے بعد مہاجرین کو کہا کہ ہم اپنے اموال کو تقسیم کر لیتے ہیں۔آدھے آپ لے لیں گے آدھے ہم لے لیں گے۔تو انہوں نے ان اموال کو لینے سے انکار کر دیا انہوں نے کہا وہ ثواب جو ہماری قربانی کا ہمارے رب کی طرف سے ملے گا۔وہ تمہارے نصف مال سے کہیں زیادہ ہے اور وہ ہمیں زیادہ محبوب ہے ہم تمہارے اموال نہیں لیتے پھر اللہ تعالیٰ نے برکت ڈالی اور ان کو اس دنیا میں بھی دیا لیکن یہ سب رضا کارانہ قربانی تھی نا اموال کو ربان کر دیا۔جہاد میں جاتے تھے نہ کھانے کا خرچ۔نہ وردی کا خرچ نہ ہتھیار کا خرچ اور نہ سواری کا خرچ۔اونٹ تھا تو اونٹ پر سوار ہو گئے۔گھوڑا تھا تو گھوڑے پر سوار ہو گئے ورنہ اپنی لاتوں کو استعمال کیا پیدل جاپہنچے۔یہ سارا کام رضا کارا نہ تھا آپ کو اس قسم کی رضا کارانہ خدمت کی اس دنیا میں کوئی مثال نہیں ملے گی۔صحابہ تو ایک لمبے عرصہ تک اپنے قریباً سارے اموال کو ، اپنے اوقات کو ، اپنی جانوں کو ، اپنی عزتوں کو قربان کرتے رہے اور اس کے بدلہ میں انہوں نے دنیا کی کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا اور اپنے رب کی رضا پر راضی رہے اور خوش رہے اور اپنے آپ کو کامیاب اور امیر اور باعزت اور صاحب اقتدار سمجھتے رہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں انہوں نے اپنے لئے پیار دیکھا تھا اور اس پر اپنی ہر چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔اس وقت اسلام دنیا میں رضا کارانہ خدمت سے پھیلا اور بعد میں بھی جو ساری دنیا میں اسلام پھیلا ہے تو کون سے پیڈ (Paid) مربی وہاں بھیجے گئے تھے۔کوئی نہیں۔اپنے خرچ پر جاتے تھے اللہ تعالیٰ -