خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 251
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۵۱ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب فضل کر دیتا تھا اور انہیں دنیا بھی دے دیتا تھا لیکن وہ بیت المال سے کوئی مطالبہ نہیں کرتے تھے۔کوئی چین جارہا ہے۔کوئی فینی کے جزائر میں جارہے ہیں کوئی انڈونیشیا جارہا ہے۔کوئی افریقہ کے جنگلوں میں جارہا ہے۔اور خلیفہ المسلمین ( گو وہ اس وقت بادشاہ تھے۔برسر اقتدار حکومت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اسے بڑی شان اور بڑے اموال عطا کئے تھے ) لیکن خلیفہ المسلمین خلیفہ وقت اور بادشاہ وقت کو وہ یہ نہیں لکھا کرتے تھے کہ ہم افریقہ کے جنگلوں میں کام کر رہے ہیں۔ہمارا وظیفہ مقرر کیا جائے اللہ تعالیٰ انہیں اس دنیا میں بھی بدلہ دے دیتا تھا۔ایک بزرگ افریقہ کے جنگلوں میں گئے اور وہاں جا کر انہوں نے عام رنگ میں اسلام کی تبلیغ کی تو کوئی شخص یا کوئی قبیلہ ان کی طرف متوجہ نہ ہوا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کوئی سبق سکھانا چاہتا تھا۔خدا کی شان نرالی ہے كُل يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن:۳۰) وه ان حبشی اقوام سے مایوس ہو گئے اور کہا کہ میں اپنی زندگی کا وقت ضائع کر رہا ہوں۔میں سینی گال ( نقشہ تو غالبا نہ تھا لیکن اس نام سے مشہور تھا) میں جا کر عبادت میں لگ جاتا ہوں۔وہاں ایک بہت بڑا دریا بھی تھا اور اس دریا میں بہت جزیرے بھی تھے۔ان جزیروں میں سے ایک بہت بڑا جزیرہ تھا۔انہوں نے کہا میں نے اپنا وقت ضائع کیا ان لوگوں میں تبلیغ کر کے، سنتے نہیں اور میں وہاں جا کر بیٹھتا ہوں اور خدا کی عبادت میں مشغول ہوتا ہوں۔وہ بڑے بزرگ تھے۔وہ اس جزیرہ میں ایک ایسی جگہ چلے گئے جہاں دوطرف پانی بہتا تھا تا لوگ انہیں تنگ نہ کریں اور وہاں انہوں نے اپنی کٹیا بنائی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو گئے تب خدا نے کہا کہ تو تو میرے ان بندوں سے مایوس ہو گیا ہے لیکن میں تو ان سے مایوس نہیں ہوں چنانچہ آسمان سے فرشتوں کا نزول ہوا اور ان کے ارد گرد جو قبائل آباد تھے ان کے کچھ آدمی اپنے قبائل کے نمائندہ کی حیثیت سے ان کے پاس جمع ہو گئے اور انہیں کہا کہ ہمیں قرآن سکھا ئیں یا خدا تعالیٰ نے انہیں کہا کہ ان کو قرآن سکھاؤ۔چنانچہ انہوں نے ایک کلاس لینی شروع کی اور قرآن پڑھانا شروع کر دیا۔جب سارا قرآن پڑھا دیا تو ان سے کہا کہ تم اپنے قبیلہ میں جاؤ اور اپنے قبیلہ والوں کو قرآن کی تعلیم دو۔جب وہ لوگ اپنے قبیلہ میں گئے اور تبلیغ کی تو وہ سارے کے سارے مسلمان ہو گئے یا ان کی اکثریت مسلمان ہوگئی اور سب قبائل نے مل کر ان سے درخواست کی کہ وہ ان کے بادشاہ بن جائیں چنانچہ تمام قبائل نے انہیں اپنا بادشاہ بنا