مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 9 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 9

19اکتوبر 1934ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: سات یا آٹھ دن تک اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی اور توفیق بخشی تو میں ایک نہایت ہی اہم اعلان جماعت کے لئے کرنا چاہتا ہوں چھ یا سات دن سے قبل میں وہ اعلان کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔اس اعلان کی ضرورت اور اس کی وجود بھی میں اسی وقت بیان کروں گا لیکن اس سے پہلے میں آپ لوگوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ احمدی کہلاتے ہیں، آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی چنیدہ جماعت ہیں، آپ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کے مامور پر کامل یقین رکھتے ہیں، آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے آپ نے اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کر رکھے ہیں اور آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ ان تمام قربانیوں کے بدلے اللہ تعالیٰ سے لوگوں نے جنت کا سودا کر لیا ہے۔یہ دعوئی آپ لوگوں نے میرے ہاتھ پر دہرایا بلکہ آپ میں سے ہزاروں انسانوں نے اس عہد کی ابتدا میرے ہاتھ پر کی کیونکہ وہ میرے ہی زمانہ میں احمدی ہوئے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے ، تمہاری بیویاں، تمہارے عزیز و اقارب، تمہارے اموال اور تمہاری جائیدادیں تمہیں خدا اور اس کے رسول سے زیادہ پیاری ہیں تو تمہارے ایمان کی کوئی حقیقت نہیں۔یہ ایک معمولی اعلان نہیں بلکہ اعلان جنگ ہو گا ہر اس انسان کے لئے جو اپنے ایمان میں ذرہ بھر بھی کمزوری رکھتا ہے۔یہ اعلان جنگ ہو گا ہر اس شخص کے لئے جس کے دل میں نفاق کی کوئی بھی رگ باقی ہے لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے تمام افراد الا ماشاء اللہ سوائے چند لوگوں کے سب سچے مومن ہیں اور اس دعوئی پر قائم ہیں جو انہوں نے بیعت کے وقت کیا اور اس دعوئی کے مطابق جس قربانی کا بھی ان سے مطالبہ کیا جائے گا اسے پورا کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے۔“ وقف جديد ایک اور بابرکت تحریک: 66 (الفضل 23 اکتوبر 1934 ء سوانح فضل عمر جلد 3۔صفحہ 301) جماعت کی مالی جہاد اور قربانیوں کی تاریخ نہایت شاندار اور قابل رشک ہے۔اس عظیم مثالی کارنامہ کے پیچھے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ولولہ انگیز قیادت کا کسی قدر تذکرہ تحریک جدید کے ضمن میں ہو چکا ہے تحریک جدید کا اجرا 1934ء میں ہوا جبکہ حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی جوانی کا زمانہ اور شدید طوفانی مخالفت کی وجہ سے جماعت کے اندر غیر معمولی جذبہ و جوش کا زمانہ تھا مگر 1958 ء میں جبکہ حضور (حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ) ایک ایسے خوفناک قاتلانہ حملہ سے دوچار ہو چکے تھے جس میں ”نادان دشمن کا وارشہ رگ سے چھوتے ہوئے اور اپنے اثرات پیچھے چھوڑتے ہوئے نکل گیا تھا اس کے نتیجہ میں حضور (حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ) ایک انتہائی تکلیف دہ اعصابی بیماری میں مبتلا رہ چکے تھے مگر عمر کی زیادتی، بیماری کی شدت، ذمہ داریوں کے ہجوم میں ہمارا یہ خدا رسیدہ قائد ایک عجیب شان کے ساتھ جماعت کی روحانی ترقی اور تربیت کیلئے ایک نہایت وسیع پروگرام اس جماعت کے سامنے پیش کرتا ہے جو تقسیم وطن کے نتیجہ میں ایک بہت بڑے دھکے کو برداشت کر کے نئے سرے سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش میں مصروف ہے اور ایک دفعہ پھر دنیا پر یہ ثابت کر دیتا ہے کہ خدائی تائید یافتہ اولیاء اللہ کی شان دنیوی لیڈروں اور خود ساختہ پیروں سے کتنی مختلف اور ارفع واعلیٰ ہوتی ہے۔اس سکیم کی اہمیت و افادیت کا اندازہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے مندرجہ ذیل ارشاد سے ہوتا ہے: دو میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہو کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح 9