مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 10 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 10

فرمایا: جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں تحریک جدید کے ماتحت وقت کرتے ہیں وہ اپنی زندگیاں براہ راست میرے سامنے وقف کریں تاکہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دینے کا کام کر سکیں۔۔۔۔۔۔۔ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں ہے لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت ویران ہو چکا پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لئے وقف کریں۔۔۔۔۔اور باہر جا کر نئے ربوے اور نئے قادیان بسائیں۔۔۔۔وہ جا کر کسی ایسی جگہ بیٹھ جائیں اور حسب ہدایت وہاں لوگوں کو تعلیم دیں۔لوگوں کو قرآن کریم اور حدیث پڑھائیں اور اپنے شاگرد تیار کریں جو آگے اور جگہوں پر پھیل جائیں۔“ ہے۔اسی طرح حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرمایا: وو ( افضل 6 فروری 1958 ء) یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اور ضرور پورا ہو کر رہے گا۔میرے دل میں چونکہ خدا تعالیٰ نے یہ تحریک ڈالی ہے اس لئے خواہ مجھے اپنے مکان بیچنے پڑیں، کپڑے بیچنے پڑیں میں اس فرض کو تب بھی پور ا کروں گا۔خدا تعالى۔۔۔میری مدد کے لئے فرشتے آسمان سے اُتارے گا۔“ ( افضل 7 جنوری 1958 ء) 1958ء میں عید الاضحیہ کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس انجمن کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے پشاور سے کراچی تک رُشد و اصلاح کا جال پھیلا یا جائے بلکہ اصلی حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہم نے رُشد و اصلاح کے لحاظ سے مشرقی اور مغربی پاکستان کا گھیرا کرنا ہے تو اس کیلئے ہمیں ایک کروڑ روپے سالانہ سے بھی زیادہ کی ضرورت ہے۔“ (1 خلافت ثالثہ کی بابرکت تحریکات: صد سالہ احمدیہ جوبلی منصوبہ: (سوانح فضل عمر جلد 3 صفحہ 350،348،347) احمدیت کی پہلی صدی کی تکمیل پر اظہار تشکر اور احمدیت کی دوسری صدی جو غلبہ اسلام کی صدی ہے ) کے شایان شان +1973- استقبال کی تیاری کے لئے حضرت خلیفہ اُسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک جامع منصوبہ بنا کر اسے 1973ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کے سامنے پیش کیا اور اس کے دوسرے حصے یعنی تعلیمی منصوبے کا اعلان حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1979ء میں اس وقت فرمایا جب تاریخ اسلام میں آٹھ سو سال کے وقفے کے بعد پہلے احمدی مسلمان سائنس دان عبدالسلام نے فزکس میں دو امریکی سائنسدانوں کے ساتھ عالمی اعزاز ” نوبل انعام حاصل کیا۔غلبہ اسلام کی آسمانی مہم صد سالہ جوبلی منصوبہ کے ساتھ تعلیمی منصوبے کو منسلک کرنے سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ تھا کہ ”جب تک تعلیمی بنیاد مضبوط نہ ہو کوئی شخص علوم قرآنی سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا اور یہ کہ ”جب انسان اپنے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جائے توا نسان کی مدد کے لئے خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن ہی آئے گا نیز یہ کہ ہم اسلام کو اس وقت تک نہیں پھیلا سکتے جب تک یوروپنیوں کو تعلیم کے میدان میں شکست نہ دے دیں۔“ 10