مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 74 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 74

گیا لیکن مسیح ثانی صلیب پر نہیں لٹکایا گیا کیونکہ مسیح اول کے پیچھے موسوی طاقت تھی اور مسیح ثانی کے پیچھے محمدی طاقت تھی۔خلافت چونکہ ایک انعام ہے ابتلا نہیں اس لئے اس سے بہتر چیز تو احمدیت میں آسکتی ہے جو کہ مسیح اول کو ملی لیکن وہ ان نعمتوں سے محروم نہیں رہ سکتی جو کہ مسیح اول کی امت کو ملیں کیونکہ مسیح اول کی پشت پر موسوی برکات تھیں اور مسیح ثانی کہ پشت پر محمدی برکات ہیں۔پس جہاں میرے نزدیک یہ بحث نہ صرف یہ کہ بے کار ہے بلکہ خطر ناک ہے کہ ہم خلافت کے عرصہ کے متعلق بحثیں شروع کر دیں وہاں یہ امر ظاہر ہے کہ سلسلہ احمدیہ میں خلافت ایک بہت لمبے عرصے تک چلے گی جس کا قیاس بھی اس وقت نہیں کیا جا سکتا اور اگر خدا نخواستہ بیچ میں کوئی وقفہ پڑے بھی تو وہ حقیقی وقفہ نہیں ہو گا بلکہ ایسا ہی وقفہ ہو گا جیسے دریا بعض دفعہ زمین کے نیچے کھس جاتے ہیں اور پھر باہر نکل آتے ہیں کیونکہ جو کچھ اسلام کے قرونِ اولیٰ میں ہو ا وہ ان حالات سے مخصوص تھا وہ ہر زمانے کیلئے قاعدہ نہیں تھا۔“ الفضل 3 ابريل 1952 ء) ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ : احمدیت میں سلسلۂ خلافت تا قیامت چلے گا کے موضوع پر حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے اعزاز میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی طرف سے دی جانے والی الوداعی دعوت میں خطاب کرتے ہوئے 29اکتوبر 1969ء کو فرمایا کہ: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو ایک عظیم وعدہ یہ بھی دیا ہے کہ حضور علیہ السلام کے وصال کے بعد جماعت احمدیہ اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی قیامت تک اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا مشاہدہ کرتی رہے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے رسالہ الوصیت میں اسے قدرت ثانیہ یعنی خلافت حقہ قرار دیا ہے۔چونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ میں اللہ تعالی کی ایک مجسم قدرت ہوں۔اس پر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ آپ علیہ السلام بہر حال انسان ہیں ایک وقت میں آپ نے اس دنیا سے کوچ کر جاتا ہے کیا آپ کی وفات کے بعد جماعت اس مجسم قدرت سے محروم ہو جائے گی؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا کہ نہیں جماعت اس سے محروم نہیں ہو گی۔آپ نے اس خوف کو دور کرنے کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کی یہ بشارت سنائی کہ میرے بعد بھی جماعت میں اللہ تعالیٰ کی قدرتیں اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوتی رہیں گی اور یہ سلسلہ جب تک کہ جماعت احمدیہ پر قیامت نہیں آجاتی اور روحانی طور جماعت مردہ نہیں بن جاتی (وَالْعَيَاذُ بِاللهِ ) اس وقت تک یہ جماعت خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا مشاہدہ کرتی رہے گی۔یہ (خطاب فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث 29اکتوبر 1969ء مشعل راہ جلد 2 صفحہ 210) ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا: میں آپ کو ایک خوشخبری دیتا ہوں کہ اب آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا۔جماعت بلوغت کے مقام پر پہنچ چکی ہے خدا کی نظر میں۔اور کوئی دشمن آنکھ، کوئی دشمن دل، 74