مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 73
اور ”دنیا کے مذاہب کی حفاظت کیلئے مؤید من اللہ ، نصرت یافتہ پیدا نہیں ہوتے۔اسلام کے اندر کیسا فضل احسان ہے کہ وہ مامور بھیجتا ہے جو پیدا ہونے والی بیماریوں میں دعاؤں کے مانگنے والا، خدا کی درگاہ میں ہوشیار انسان، شرارتوں اور عداوتوں کے بدنتائج سے آگاہ، بھلائی سے واقف انسان ہوتا ہے۔جب غفلت ہوتی ہے اور قرآن کریم سے بے خبری ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہوں میں بے سمجھی پیدا ہو جاتی ہے تو خدا کا وعدہ ہے کہ ہمیشہ خلفا پیدا کرے گا۔“ ارشاد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مسیح محمدی کی خلافت کے بارہ میں فرمایا: (الحکم 17 جولائی 1902ء صفحہ 15) عزیزم مرزا منصور احمد نے میری توجہ ایک مضمون کی طرف پھیری ہے جو مرزا بشیر احمد صاحب نے خلافت کے متعلق شائع کیا ہے اور لکھا ہے کہ غالباً اس مضمون میں ایک پہلو کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی جس میں مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ تحریر کیا ہے کہ خلافت کا دور ایک حدیث کے مطابق عارضی اور وقتی ہے میں نے اس خط سے پہلے یہ مضمون نہیں پڑھا تھا اس خط کی بنا پر میں نے مضمون کا وہ حصہ نکال کر سنا تو میں نے بھی سمجھا کہ اس میں صحیح حقیقت خلافت کے بارے میں پیش نہیں کی گئی۔مرزا بشیر احمد صاحب نے جس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ خلافت کے بعد حکومت ہوتی ہے اس حدیث میں قانون نہیں بیان کیا گیا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے حالات کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے اور پیشگوئی صرف ایک وقت کے متعلق ہوتی ہے سب اوقات کے متعلق نہیں ہوتی یہ امر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت نے ہونا تھا اور خلافت کے بعد حکومت مستبدہ نے ہونا تھا اور ایسا ہی ہو گیا، اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہر مامور کے بعد ایسا ہی ہوا کرے گا۔قرآن کریم میں جہاں خلافت کا ذکر ہے وہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خلافت ایک انعام ہے پس جب تک کوئی قوم اس انعام کی مستحق رہتی ہے وہ انعام اسے ملتا رہے گا۔پس جہاں تک مسئلہ اور قانون کا سوال ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہر نبی کے بعد خلافت ہوتی ہے اور وہ خلافت اس وقت تک چلتی چلی جاتی ہے جب تک کہ قوم خود ہی اپنے آپ کو خلافت کے انعام سے محروم نہ کر دے لیکن اس اصل سے ہر گز یہ بات نہیں نکلتی کہ خلافت کا مٹ جانا لازمی ہے حضرت عیسی علیہ السلام کی خلافت اب تک چلی آرہی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم کہتے ہیں کہ پوپ صحیح معنوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کا خلیفہ نہیں لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی تو مانتے ہیں کہ امت عیسوی بھی صحیح معنوں میں مسیح کی امت نہیں۔پس جیسے کو تیسا تو ملا ہے مگر ملا ضرور ہے بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کی خلافت عارضی رہی لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد ان کی خلافت کسی نہ کسی شکل میں ہزاروں سال تک قائم رہی اسی طرح گو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت محمدیہ تواتر کے رنگ میں عارضی رہی لیکن مسیح محمدی کی خلافت مسیح موسوی کی طرح ایک غیر معین عرصہ تک چلتی چلی جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام كريم ہے نے اس مسئلہ پر بار بار زور دیا ہے کہ مسیح محمدی کو مسیح موسوی کے ساتھ ان تمام امور میں مشابہت حاصل جو امور کہ تکمیل اور خوبی پر دلالت کرتے ہیں سوائے ان امور کے جن سے بعض ابتلا ملے ہوتے ہیں ان میں علاقہ محمدیت، علاقہ موسویت پر غالب آجاتا ہے اور نیک تبدیلی پیدا کر دیتا ہے جیسا کہ مسیح اول صلیب پر لٹکا یا 73