مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 75 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 75

کوئی دشمن کوشش اس جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گی اور خلافت احمد یہ انشاء اللہ تعالیٰ اسی شان کے ساتھ نشو و نما پاتی رہے گی جس شان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدے فرمائے ہیں کہ کم از کم ایک ہزار سال تک یہ جماعت زندہ رہے گی۔تو دعائیں کریں، حمد کے گیت گائیں اور اپنے عہدوں کی پھر تجدید کریں۔“ ارشاد سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز : الفضل 28 جون 1982 ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: " آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی تاریخ کا وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے محض اور محض اپنے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل لوگوں کی ، آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد خوف کی حالت کو امن میں بدلا اور اپنے وعدوں کے مطابق جماعت احمدیہ کو تمکنت عطا فرمائی یعنی اس شان اور مضبوطی کو قائم رکھا جو پہلے تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی فعلی شہادت سے یہ ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے فرستادہ اور نبی تھے اور آپ علیہ السلام وہی خلیفہ اللہ تھے جس نے چودہویں صدی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتری ہوئی شریعت کو دوبارہ دنیا میں قائم کرنا تھا اور آپ علیہ السلام کے بعد پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آپ علیہ السلام کا سلسلۂ خلافت تا قیامت جاری رہنا تھا۔پس آج 97 سال گزرنے کے بعد جماعت احمدیہ کا ہر بچہ، جوان، بوڑھا، مرد اور عورت اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی اس بارہ میں فعلی شہادت گزشتہ 97 سال سے پوری ہوتی دیکھی ہے اور دیکھ رہا ہوں اور نہ صرف احمدی بلکہ غیر از جماعت بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔“ یہ سلسلہ خلافت ہمیشہ کے لئے ہے: (خطبہ جمعہ فرمودہ 27 مئی 2005ء - الفضل انٹر نیشنل 10 تا 16 جون 2005 ء) سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مزید فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد سلسلۂ خلافت کو ہمیشہ کے لئے قرار دیا ہے جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہے۔اب میں اس طرف آتا ہوں، وہ تو ضمنی باتیں تھیں کہ خلافت احمدیہ میں ہمیشہ قائم رہنی ہے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت علی منهاج النُّبُوَّةِ قائم ہو گی۔پھر اللہ تعالیٰ ا جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا۔پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی۔ہو گا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہوگی جب تک اللہ چاہے گا پھر اللہ اسے بھی اٹھا لے گا اس کے بعد پھر خلافت علی منھاج النبوۃ قائم ہوگی اور یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔(مشکونة۔باب الانذار والتحذير) اور یہ جو دوبارہ قائم ہوئی تھی یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے ہی قائم ہوئی تھی۔دور جب یہ 75 75