مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 58 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 58

ہیں: آپ رضی اللہ عنہ بے بس و بے کس انسان کی ہمدردی کی تحریک کرتے اور عاجزی سے سوال کرنے والے اور نہ کرنے والے محتاجوں کو کھلانے کا حکم فرماتے۔آپ رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے تھے۔“ اشاعت اسلام: سر الخلافہ روحانی خزائن جلد نمبر 8 صفحہ 358) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بہت سی خدمات انجام دیں۔چنانچہ سیر الصحابہ میں لکھا ہے کہ: مذہبی خدمات امام وقت کا سب سے اہم فرض مذہب کی اشاعت، تبلیغ اور خود مسلمانوں کو مذہبی تعلیم وتلقین ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ عہد نبوت ہی سے ان خدمات میں ممتاز تھے۔چنانچہ یمن میں اسلام کی روشنی ان ہی کی کوشش پھیلی تھی۔سورۂ برأة ( التوبة ) نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ و اشاعت کی خدمت بھی ان کے سپرد ہوئی۔مسند خلافت پر قدم رکھنے کے بعد سے آخر وقت تک گو خانہ جنگیوں نے فرصت نہ دی تا ہم اس فرض سے بالکل غافل نہ تھے۔ایران اور آرمینیہ میں بعض مسلم عیسائی مرتد ہو گئے تھے حضرت علی نے ان کی سرکوبی کی اور ان میں سے اکثر تائب ہو کر پھر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔حضرت علی نے مسلمانوں کی اخلاقی نگرانی کا بھی خیال رکھا۔مجرموں کو عبرت انگیز سزائیں دیں۔“ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم : (سیر الصحابہ - جلد 1 صفحہ 306 تا 307) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتے مکہ کے لوگ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادہ سے ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہجرت کے ارادہ سے گھر سے نکل پڑے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر لٹا دیا اور اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہنے اس امر کا ثبوت دے دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ خود صلیب پر لٹکنے کو تیار رہتے تھے۔تو عشق ذاتی میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم دوسرے نبیوں کی قوموں سے بڑھ گئی اور عشق قومی میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم دوسرے نبیوں کی قوموں سے بڑھ گئی۔“ (حوالہ تفسیر کبیر جلد نمبر 8 - صفحہ 7) حفاظت منصب خلافت منصب خلافت کی حفاظت کیلئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمات نہایت اعلیٰ اور شاندار ہیں۔چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب خلیفہ الرسول منتخب ہوئے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا جس پر حضرت علی رضی 58